Labels

مضامین (11) تراشے (8) ادبی مضامین (5) شخصیات (2)
‏مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 1 جنوری، 2025

تنقید کی زبان

ڈاکٹر شاہد وصی 

تخلیق اور تنقید کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ادب میں جتنی اہمیت ایک تخلیق کار کی ہے، اتنی ہی کسی ناقد کی بھی ہے۔ تنقید کا بنیادی مقصد تفہیم متن اور فن پارے کی تعیین قدر ہے۔ تنقید نگار قاری اور فن پارے کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ وہ فن پارے کا ادب میں معیار متعین کرتا ہے، وہیں اس کے محاسن و معائب اور قدر و قیمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ کلیم الدین کی نگاہ میں تنقید کی ادب میں وہی حیثیت ہے جو کسی باغ اور گلستان میں مالی اور باغباں کی ہے۔ جس طرح باغباں قینچی کی مدد سے مرجھائے پتے اور خشک ہوچکی شاخوں کو کاٹ کر اسے خوشنما اور جاذب نظر بناتا ہے، بعینہ یہی کام ایک تنقید نگار کے ذریعہ بھی انجام پاتا ہے۔ تنقید نگار کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ادب میں کسی فن پارے کیلئے اصول وضع کرے اور اس کے ضابطے بنائے تاکہ ایک تخلیق کار ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اپنی تخلیقات کو ادبی منزل تک پہنچا سکے۔ دیگر بہت سارے اصناف سخن کی طرح تنقید کا فن بھی اردو میں مغرب کے زیر اثر پروان چڑھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مغربی ادبیات کی آمد سے پہلے مشرق میں اردو ادبا اور دانشوران کے اندر کوئی تنقیدی شعور نہیں تھا۔ وجہی سے لیکر عہد حاضر تک کے جتنے بھی فنکار و تخلیق کار گزرے ہیں سبھوں کے اندر میں ایک اچھا تنقیدی شعور موجود تھا، کیونکہ اس کے بغیر کوئی اچھا فن پارہ وجود میں ہی نہیں آسکتا۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان میں تنقید کے باضابطہ اصول مغربی لٹریچروں کی مدد سے ہی بنائے گئے۔ آل احمد سرور اپنے ایک مضمون میں اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 


’’مغرب کے اثر سے اردو میں کئی خوشگوار اضافے ہوئے۔ ان میں سب سے اہم فن تنقید ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب کے اثر سے پہلے اردو ادب میں کوئی تنقیدی شعور نہیں رکھتا تھا یا شعر و ادب کے متعلق گفتگو، شاعروں پر تبصرہ اور زبان و بیان کے محاسن پر بحث نہیں ہوتی تھی۔ بڑے تخلیقی کارنامے بغیر ایک اچھے تنقیدی شعور کے وجود میں نہیں آسکتے۔ ‘‘
( تنقید کیا ہے؟ پروفیسر آل احمد سرور۔ ص۱۴۲)

یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی تخلیقی کارنامہ یا کوئی بھی فن پارہ اسی وقت شاہکار اور ادبی کہلاتا ہے جب اس کے تخلیقی عمل میں تنقیدی شعور اور فنی بصیرت کام کررہی ہوتی ہے۔ اردو میں باضابطہ تنقید کی شروعات خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی کتاب ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے ہوتی ہے، لیکن تنقیدی خیالات و افکار ہمیں اس سے پہلے بھی ہر فنکار و تخلیق کار کے یہاں جا بہ جا دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حالیؔ سے پہلے بھی وجہیؔ سے لیکر میرؔ و غالبؔ تک بے شمار شہ پارے تخلیق کئے گئے، اگر ان تمام کے تخلیقی عمل کے دوران تنقیدی شعور کارفرما نہ ہوا ہوتا تو یہ فن پارے شاہکار نہیں بن سکتے تھے۔ پروفیسر احتشام حسین کا خیال ہے کہ اردو ادب کی پیدائش ہی اس وقت ہوئی جب پہلے سے بہت ساری زبانوں کے ادب موجود تھے اور اچھے یا برے تنقیدی معیارات وجود میں آچکے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہر ادیب کے پاس اعلی یا ادنی تنقید کا کوئی نہ کوئی معیار ضرور ہوتا ہے جو تخلیقی عمل کے ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو اچھا تخلیقی عمل بھی وجود میں نہ آئے۔ گویا اچھی تخلیقی قوت، اچھی تنقیدی قوت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ ‘‘

(ادبی تنقید کے مسائل: مشمولہ روایت اور بغاوت۔ سید احتشام حسین، ص۔۱۴) 

جمعہ، 13 دسمبر، 2024

اردو میں ناول تنقید کے نظری مباحث

ڈاکٹر شاہد وصی 

تعیین قدر اور تفہیم ادب کیلئے فن پارے کو انتقادی نقطۂ نظر سے جانچنے اور پرکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر زندہ ادب میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو تخلیقی سرمایے اور فن پارے کو مسلمہ اصول کی روشنی میں جانچتے ہیں اور جہان ادب میں اس کی قدر و قیمت کی تعیین کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ تخلیق کار اور عام قاری کے درمیان رابطے کا بھی کام کرتے ہیں۔ ان کے ذمے فن پارے کے اجمال کی تفصیل، تلمیحات واستعارات کی تفسیر ، تخلیق کار کے ویژن اور مقصدیت کی تشریح بھی ہوتی ہے۔ مذکورہ پس منظر میں تنقید تخلیق کے بعد وقوع پذیر ہوتی ہے۔ لیکن تعیین قدر اور تفہیم ادب کے علاوہ تنقیدکی ایک اور شکل ہے جو ایک تخلیق کار کے اندر چھپی ہوتی ہے۔ اس کا عمل فن پارے کے وجود میں آنے سے پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے اور فن پارے کی پیشکش کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار اپنا راستہ طے کرتا رہتا ہے۔ 

اردو زبان میں صنف ناول نے اپنے پہلے نقش ڈپٹی نذیر احمد کی تصنیف ’’مراۃ العروس‘‘ ۱۸۶۹ء سے ۲۰۲۴ء تک تقریباً ڈیڑھ سو سال کا سفر پورا کرلیا ہے۔ اس ڈیڑھ صدی کے دوران سینکڑوں ناول لکھے گئے ، چند ایسے بھی منصہ شہود پر آئے جسے عالم گیر شہرت ملی، مگر جب ہم صنف ناول کے تنقیدی سرمایے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو اس باب میں قدرے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابتدا سے عہد حاضر تک ارو ناولوں پر جتنی بھی تنقید کی گئی اور جس طرح کی بھی تحریریں انتقادیات ناول کے باب میں لکھی گئیں اس کے واضح طور پر دو پہلو ہیں۔ ایک ناول کے نظری و فکری مباحث اور دوسرے انفرادی مطالعے۔ پھر نظری و فکری مباحث کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (۱) ناول نگاری کا فنی مطالعہ (۲) مختلف ناولوں کا موضوعاتی مطالعہ و تجزیہ۔ اسے اردو زبان کی بدقسمتی سے تعبیر کریں یا اس پر افسوس و ماتم کیا جائے کہ اردو میں فن ناول نگاری اور ناول پر فنی و فکری مباحث کی کچھ خاص، مستقل اور مستند کتاب تصنیف نہیں کی گئی۔ اس مضمون میں ہم نے اردو ناول تنقید کے فکری مباحث کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ 

اردو ناول کے فکر و فن کے حوالے سے اہم اور مستقل تصانیف میں پروفیسر سید محمد عقیل کی کتاب ’’جدید ناول کا فن‘‘ (۱۹۹۷) اور ڈاکٹر احسن فاروقی اور پروفیسر نور الحسن ہاشمی کی مشترکہ تصنیف ’’ناول کیا ہے؟‘‘ (۱۹۵۱) کو رکھا جاسکتا ہے، جو بہت حد تک فن ناول کی ضروریات کو پوری کرتی ہیں۔ ویسے تو اردو زبان میں ناول کے تعلق سے اظہار خیال اور تبصرے ناول کے آغاز سے ہی شروع ہوگئے تھے۔ ابتدا میں مولوی کریم الدینؔ، شادؔ عظیم آبادی، ڈپٹی نذیرؔ احمداور مرزا ہادی رسواؔ وغیرہ کی تعارفی و مقدماتی تحریروں میں ناول کے تعلق سے تنقیدی مباحث مل جاتے ہیں، وہیں عبدالحلیم شررؔ، پریم چندؔ، سجاد حیدر یلدرمؔ اور برج نرائن چکبستؔ کے مضامین بھی ناول تنقید کے اولین نقوش کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ناول کے آغاز سے لیکر تقریباً ۷۵؍ سالوں کے بڑے وقفے کے بعد علی عباس حسینیؔ پہلے ایسے ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اردو ناول کی تنقید پر ایک جامع، مفصل اور مستقل کتاب لکھتے ہیں۔ ان کی کتاب ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ (۱۹۴۴ء) جہاں اردو ناول نگاری کی تاریخی ارتقا سے بحث کرتی ہے، وہیں ناول نگاروں کے معائب و محاسن اور ناول کی خصوصیات و نقائص پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے۔ اردو کی شعری تنقید میں جو مقام مولوی حسین احمد آزادؔ کی ’’آب حیات‘‘ کو حاصل ہے، اردو ناول کی تنقیدی تاریخ میں وہی مقام و مرتبہ علی عباس حسینی کی تصنیف ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ کو حاصل ہے۔ یہ یکسانیت اس اعتبار سے ہے کہ اردو کی شعری تنقید میں ’’آب حیات‘‘ نے آنے والے ناقدین کیلئے راہیں ہموار کی، بعینہ اسی طرح ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ کی روشنی ہی میں بعد کے ناول ناقدین نے اپنی اپنی راہیں نکالی ہیں۔ فکشن تنقید کی تاریخ لکھتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم اس کتاب کے تعلق سے رقم طراز ہیں: 

منگل، 15 اکتوبر، 2024

بہار میں میر شناسی کی روایت

 ڈاکٹر شاہد وصی 

سرزمین بہار ہمیشہ سے اردو زبان وادب کے گیسو و کاکل کو سنوارتی آرہی ہے۔ اردو خواہ جمنا کنارے جمنی ہو یا راوی و ستلج کی موجوں سے اس نے اٹکھیلیاں کرنی شروع کی ہو، دریائے سندھ کے ساحلوں پراس نے بال و پر نکالے ہوں یا جنوب کی پہاڑیوں پر اس نے چوکڑیاں بھری ہوں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہار بھی روز اول سے ہی اردو ادب کی عظیم وراثت کی امین رہی ہے۔ یہاں نثر و نظم کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید اور ادب کی تمام جدید اصناف کی روایتیں بھی ہمیشہ زندہ و تابندہ رہی ہیں۔ جس زمانے میں الطاف حسین حالیؔ ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ لکھ کر تذکراتی و بیاضی تبصروں کو تنقید کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کررہے تھے اور اردو کے شعری سرمایے کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ اس کے اصول و ضوابط لکھ رہے تھے، اسی زمانے میں بہار میں بھی ’’کاشف الحقائق‘‘ کے ذریعہ امداد امام اثرؔ عالمی شعری پس منظر میں اردو شاعری کا مطالعہ کررہے تھے۔ جس عہد میں مولوی نذیر احمد اردو کی داستانوی روایت سے انحراف کرتے ہوئے نئی صنف ’’ناول‘‘ کی داغ بیل ڈال رہے تھے، ٹھیک اسی عہد میں یہاں شاد عظیم آبادی اور اصلاح النساء نے بھی اس صنف میں لائق تقلید نقش پا چھوڑے۔ اردو ادب کو تحقیق کا ’’معلم ثانی‘‘ اسی سرزمین نے عطا کیا اور اسی خاک سے تنقید کا وہ شعلہ جوالہ ابھرا جس نے ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ ڈال کر بہت سارے خود ساختہ بتوں کو تنکوں کی مانند اڑا دیا۔ اس ادبی وراثت کا ایک اہم حصہ میر شناسی کی روایت بھی ہے، جو اس خطے کے ادیبوں اور دانشوروں کے فکری شعور اور ذوقِ سخن کا مظہر ہے۔ 

میر تقی میرؔ کو آپ خدائے سخن مانیں یا نہ مانیں، اس کے سر پیغمبرانہ سخنوری کا تاج سجائیں یا نہ سجائیں، اس حقیقت سے مفر نہیں کہ میر کی شاعری ایک ایسی کائنات ہے جس میں جذبات، احساسات، غم اور خوشی کے بے شمار رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی غزلوں نے محبت کی لطافت، درد کی شدت، اور زندگی کی گہرائیوں کو بڑے دلکش اور سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد میر کی شاعری دو صدی گزرنے کے بعد آج بھی اتنی ہی پرکشش اور جاذب قلب و نظر ہے ۔ ’’نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب‘‘، ’’کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا‘‘اور ’’کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے‘‘ کے ذریعہ ذوقؔ، غالبؔ سے لیکر عہد حاضر کے کلیمؔ تک نے میر کے انداز اور سخنوری کے سامنے اپنی جبین عقیدت خم کی ہے۔ 

 میرؔ اردو شاعری کے ایسے لعل ہیں جن کی شعریات کی تفہیم و تعبیر ہر دور کے ناقدین نے کی ہے۔ عہد تذکرہ نگاری سے لیکر جدید تنقید نگاری تک سبھی ناقدین نے میرؔ کی شاعری کے مختلف جہات کو روشن کیا ہے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ اس میں نئے جہانِ معانی کی تلاش کی ہے۔ میرؔ کو گزرے دو سو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا، لیکن ان کے کلام کی آفاقیت و ہمہ گیری آج بھی ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ میر شناسی کے حوالے سے جب ہم بہار کے تذکرہ نگاروں اور ناقدوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس ضمن میں پہلا نام میر غلام حسین شورشؔ عظیم آبادی (متوفی ۱۱۹۵ھ) کا آتا ہے۔ یہ میرؔ کے ہم عصر ہیں اور میرؔ کی حیات ہی میں انہوں نے شعرائے ریختہ کا تذکرہ ’’تذکرۂ شورش‘‘ کے نام سے لکھا تھا۔ یہ تذکرہ فارسی زبان میں ہے۔ اس تذکرے کی بابت پروفیسر اعجاز علی ارشد لکھتے ہیں: 

بدھ، 14 ستمبر، 2022

جو ہوا، سو ہوا

شاہد وصی 
نامعلوم ماقبل تاریخ سے آج کی معلوم و مشاہداتی دنیا تک انسانی معاشرت میں آپسی ناچاقی، فساد وبگاڑ اور باہمی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے جتنی بھی مصالحانہ کوششیں ہوئی ہیں اور صلح وصفائی کی جتنی بھی نشستیں لگی ہیں، ان تمام میں ایک مشترک جملہ ’’مضی ما مضی‘‘ ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ مصالحت کی کلائمس میں ضرور سنائی دیتا ہے۔ دنیا انگنت کروٹیں لے چکی، صدیاں بیت گئیں ، ہزاروں سال کا عرصہ گزر گیا، اس دوران خدا معلوم کتنی بستیاں بسیں اور پیوند خاک ہوگئیں، نسل در نسل لوگ آتے گئے اور گور غریباں میں حشرات الارض کی خوراک بنے، آبادی وخرابی کا یہ لا متناہی سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ اس تمام عرصے میں ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ کی صدائے بازگشت بھی مصافحہ ومعانقہ کے ہم قدم چلی آرہی ہے۔ 
’’جو ہوا، سو ہوا ‘‘یہ جملہ دیکھنے میں جتنا مختصر اور چھوٹا ہے، حقیقت میں اس کی سحر انگیزی وثمر آفرینی احاطۂ تحریر سے پرے ہے۔ یکلخت دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں، آناً فاناً قلبی کدورتیں بیاباں کی راہ پکڑتی ہیں، ناگاہ دوریاں نزدیکی سے ہم آغوش ہوجاتی ہیں، اچانک منظر کا منظر بدلا بدلا سا نظر آتا ہے اور چشم زدن میں حقیقتاً ’’جو ہوا‘‘ قصہ پارینہ بن جاتا ہے اور تعلق و لگاؤ کی ایک نئی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ 
جتنے بھی سماجی مصلحین اور انسانی نفسیات کے شناسا گزرے ہیں، تمام نے اصلاح اور نفسیاتی گتھیوں کی گرہ کشائی کے لیے اسی جادوئی جملے کا سہارا لیا ہے اور یقین مانیے اسی ایک جملے سے سماج و معاشرے کو لا شمار خوشیاں ملی ہیں۔ 
آپ نے شیخ ظہور الدین حاتمؔ کا نام سنا ہی ہوگا۔ 
نہیں
کیا کہتے ہو میاں؟
ارے بھائی! وہی دلی والےسپاہ پیشہ، مرزا محمد رفیع سودا کے استاد۔ ان کا ایک شعر دیکھئے۔ 
یوں نہ ہو، یوں ہو، یوں ہوا سو کیوں 
کیا ہے یہ گفتگو، ہوا سو ہوا 
اور ایک شعر موسیقار نوشاد کی زبانی بھی سنئے۔
چھوڑو جانے دو جو ہوا سو ہوا 
آج کیوں کل کی بات یاد کرو 
یہی کل کو بھول کر اور ہوچکے پر چادر فراموشی ڈال کر نئے آج کی شروعات ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ کا تتمہ کہلاتا ہے۔ لیکن یہاں تھوڑا ٹھہر کر، قدرے توقف سے خیال وفکر کے گھوڑے اس طرف بھی دوڑانے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر مسئلہ میں ’’جو ہوا سوہوا‘‘ کا فارمولہ کارآمد ہے؟ کیا ہر طرح کے فساد و بگاڑ کیلئے یہ نسخہ یکساں طور سے نسخۂ کیمیا کا درجہ رکھتا ہے؟ اور اسی ایک دوا سے ہر مرض کا تیر بہدف علاج کس حد تک درست ہے؟ 

جب ہم سماج میں رونما ہونے والی متنوع شرانگیزیوں اور قسم قسم کی فتنہ سامانیوں کو دیکھتے ہیں اور فساد و بگاڑ کی مختلف شکلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر ان جرائم و واردات کو سماج، نفسیات اور معاش کے مختلف پیمانے پر پرکھتے ہیں تو ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ ہر فساد کے بعد 'جو ’’ہوا سو ہوا‘‘ کا فارمولہ قطعی درست اور کارگر نہیں ہے۔ بلکہ بعض واقعات میں اس فارمولے کے بدترین اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ ظلم وستم اور جبر و زیادتی اگر پدرم سلطان بود والی نفسیات کی پیداوار ہے اور اس کے پس پشت اگر کلیم عاجز کی زبانی ’’وہ صنم بگڑ کے مجھ سے مرا کیا بگاڑ لے گا‘‘ والی ذہنیت کارفرما ہوتی ہے ، تو ان معاملات جنگ وجدل میں مصالحت کے دوران ’’جو ہوا سو ہوا‘‘والے فارمولے کو بروکار لانے سے ہمیشہ ظالموں اور زبردستوں کو یک گونہ ایڈوانٹیج ہی ملتا ہے۔ اور بے چارہ ستم رسیدہ زیر دست یا تو اگلی زیادتی کے لیے تیار رہتا ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی زبان صدائے زیر لبی کی بھی ہمت نہیں جٹا پاتی ہے۔ اس طرح کے فساد وبگاڑ اور ظلم وزیادتی میں ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ سے پہلے ’’جو ہوا وہ کیوں ہوا‘‘ اور ’’جو ہوا پھر نہ ہو‘‘ جیسی گتھیوں کو سلجھانا بہت ضروری ہے۔ ان پیچ وخم کی گرہ کشائی کے بغیر نہ تو ظلم پر لمبے عرصے کے لیے قد غن لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی زیر دستوں کی آہ وکسک زیر لب سے باہری دنیا تک پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا جو ہو سوا کی اپنی دل آویزی و کشش کے باوجود کیوں ہوا؟ اور پھر نہ ہو جیسے نفسیاتی پہلوؤں پر غورکرنے سےہی معاشرے میں تادیر امن قائم کیا جاسکتا ہے اور کامل انصاف کے ساتھ ہی مصالحت کی کوششیں حقیقی معنی میں بار آور ہوسکتی ہیں۔ 



پیر، 13 جولائی، 2020

آیا صوفیا: کھل گئے تیرے در ایک مدت کے بعد

اپنی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط ۲۲
محمد احتشام الحق قاسمی، رامپور سمستی پور 
12جولائی 2020

آیا صوفیا سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ فتح ہونے سے پہلے مشرقی عیسائیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ عیسائی دنیا مذہبی اعتبار سے دو بڑے فرقے میں منقسم تھی۔ ایک فرقہ کیتھولک چرچ سے وابستہ ہوکر اپنے کو کیتھولک عیسائی کہتا تھا اور دوسرا آرتھوڈوکس عیسائی کہلاتا تھا ۔ مغربی دنیا کے عیسائیوں کا مرکز روم کا شہر ویٹیکن سیٹی تھا، انکا مذہبی پیشوا پوپ کہلاتاہے اور مشرقی دنیا کے عیسائیوں کا مرکز قسطنطنیہ تھا اور اس کا مذہبی پیشوا بطریق  patriarch کہلاتا تھا ۔ ان دونوں فرقوں کے درمیان سیاسی اور مذہبی کشمکش برابر جاری رہتی تھی ۔
آیا صوفیا یہ ارتھوڈوکس عیسائیوں کا عالمی مرکز تھا اور ساتھ میں عسکری مرکز بھی ، چونکہ اس وقت بادشاہوں پر کلیسا کی حکومت تھی اور کلیسا کی سربراہی میں جنگ لڑی جاتی تھی ۔ آیا صوفیا کی اہمیت اس لیے بھی عیسائیوں کے نزدیک زیادہ تھی کہ وہ روم کے کیتھولک چرچ سے زیادہ قدیم تھا ۔ 

آیا صوفیا کی تعمیر 
آیا صوفیا کی بنیاد روم کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے ڈالی تھی۔ اسی بادشاہ کے نام پر اس شہر کا پرانا نام بازنطینہ سے بدل کر قسطنطنیہ رکھا گیا۔  قسطنطین نے پہلی مرتبہ 360عیسوی میں ایک لکڑی کا کلیسا تعمیر کیا تھا ، چھٹی صدی میں جلنے کے بعد قیصر جسٹینین اول نے 532عیسوی میں اسے پختہ تعمیر کروایا ۔ دس ہزار مزدوروں نے پانچ سال دس ماہ کے عرصے میں آیا صوفیا کی تعمیر مکمل کی، جب تعمیر مکمل ہونے کے بعد جسٹینین اس کلیسا میں داخل ہوا ، تو اس نے انتہائی متکبرانہ اور گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اے سلمان میں تم سے سبقت کرگیا ۔ نعوذ باللہ من ذالک 
مراد اس کا یہ تھا  میں نے آپ سے بڑی عبادت گاہ بنا ڈالی میری تعمیر کے آگے آپ کے بیت المقدس کی تعمیر ہیچ ہے۔ 
آیا صوفیا پر آئے مختلف ادوار 
آیا صوفیا پر مختلف ادوار آئے  جن کو ہم سات مرحلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں 
1۔  535سے 1054تک یہ بازنطینی مسیحی کیتھڈرل کے طور پر مشہور رہا ۔ 
2 ۔ 1054سے 1204تک یہ یونانی راسخ الاعتقاد کلیسا کیتھڈرل کے طور سے مشہور رہا ۔ 
3۔  1204سے 1261تک اسے رومی کیتھولک کیتھڈرل کے طور پر جانا گیا ۔ 
4۔  1261سے 1453تک یونانی راسخ الاعتقاد کلیسا کے طور پر اسکی شہرت رہی ۔ 
5۔  1453سے 1935تک عثمانی مسجد یا صوفیا کبیر جامع شریفی کے نام سے اسکی شہرت رہی ۔ 
6۔  1935سے 10جولائی 2020تک میوزیم کے روپ میں رہی۔  
7۔  اب ترکی کی سپریم کورٹ نے اسے اسکی اصل حیثیت میں لوٹانے کا حکم دیدیا ۔ 
تقریبا ً پچاسی سال بعد آیا صوفیا سجدوں سے آباد ہورہی ہے ، خداتعالیٰ قیامت تک اسے آباد رکھے ۔ 

کیا سلطان محمد فاتح نے اسے خرید کر وقف کیا تھا ؟ 

اتوار، 13 دسمبر، 2015

فیس بک ٹیگیا اور واٹس ایپ گروپیا

آپ نے تکلیف دہی اور ایذا رسانی کے ہزارہا واقعات سنے ہوں گے، سینکڑوں حادثات اور واقعات سے آپ بذات خود نبرد آزما ہوں گے۔ آج کی اس رنگ برنگی دنیا اور لمحہ لمحہ بدلتی اشیاؤں میں ایذا رسانی، سمع خراشی اور مکدرات پیدا کرنے والے آلات بھی اور حرکتیں بھی طرح طرح کی شکلیں اختیار کرتی جارہی ہیں۔
فی الوقت فیس بک ٹیگیا اور واٹس ایپ گروپیا  دہشت اور ایذا رسانی کا سب سے موثر اور زود اثر ہتھیار ہے۔اگر آپ کسی کو حد درجہ پریشان کرنا چاہتے ہیں اور اس کے قوت فیصلہ کو مضمحل اور مکدر کرنا مقصود ہے تو اس کے نمبر کو دس پندرہ نام نہاد ارباب دانش کے گروپ میں شامل کردیجئے اور ان کے فیس بک ٹائم لائن پر دنیا جہان کی واہیات ٹیگ کردیجئے۔آپ یقین جانئے یا تو وہ شخص پاگل ہوجائے گا یا انٹرنیٹ کی وادی کو ہمیشہ ہمیش کے لیے خیرباد کہہ دے گا۔
اللہ بھلا کرے مارک زبرگ اور واٹس ایپ کے بانی کا کہ ان کے آلہ سماجیات نے دنیا کے مسائل حل کئے ہوں یا نہ کئے ہوں۔سماجی تعلقات اور باہمی روابط میں ان کے ذریعہ استحکام آیا ہو یا پہلے سے زیادہ دوری در آئی ہو۔کم سے کم اتنا تو فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ہمارے مصلحان قوم، ارباب دانش اور نقادوں کا ایک بے ہنگم جم غفیر پیدا ہوگیا ہے۔پہلے گلیوں کے نکڑ پر یا چائے کی دکانوں میں یہ نام نہاد ناقد و مصلح ڈیرہ جمائے رہتے تھے اب سب کے سب واٹس ایپ اور فیس بک پر آدھمکے ہیں۔
آپ نے چناوی ریلیوں اور انتخابی جلسوں میں سیاست دانوں کی زبانی بلندبانگ دعوے اور ناقابل یقین وعدے اور حماقت بھری باتیں ضرور سنی ہونگی۔یہ تمام باتیں اور بے کار کی چیزیں اب بآسانی یہاں دستیاب ہیں۔یہاں گالیوں اور بدزبانی کے ایسے ایسے کرشمے اور حشر سامانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اللہ کی پناہ اگر کسی کے سامنے وہ گالیاں اور ہفوات بک دی جائیں تو ان کے کان کے پردے پھٹ جائیں اور ان کی سات پشتوں کی روحیں چیخ پڑے۔
ان گروپ کے نام بھی قابل دید ہوتے ہیں، بزم سخن، مرکز اصلاح امت، ارباب دانش و بینش، گلستان علم و ادب وغیرہ وغیرہ۔ان کے نام جتنے خوبصورت اور دیدہ زیب ہوتے ہیں ان کے مشمولات اور ان کے ارکان اتنے ہی عقل سے پیدل نظر آئیں گے۔ ادبی بحثیں اتنی غیر ادبی لہجے اور زبان میں ہوتی ہے کہ حالی شبلی سے لے کر احتشام، اختر، سرور اور کلیم کی روحیں شرمندہ ہوجاتی ہیں۔یہ تو بھلا ہے کہ ان لوگوں کے عہد میں یہ سماجی آلات نہ تھے ورنہ کلیم الدین احمد کو اردو سماجی گروپیا پر ایک نظر نامی کتاب لکھنی پڑتی اور حالی کو مقدمہ فیس بک اور شبلی کو موازنہ فیس بک اور واٹس ایپ تخلیق کرنے پڑتے۔
ادبی کے علاوہ سماجی، ملکی اور ملی مصلحین و بہی خواہان کی تعداد بھی کافی ہے۔ہر گروپ میں ایسے لایعنی مشورے اور لغو تجویزیں پیش کی جاتی ہیں کہ الاماں والحفیظ۔ فیس بکئے ادیبوں اور واٹس ایپی مصلح کو آپ برساتی مینڈک سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
ان سب کے علاوہ جب واٹس ایپ کے متعدد گروپوں میں بیک وقت میسیج آتے ہیں تو ٹوں ٹوں اور پوں پوں کا ایسا کریہہ سر نکلنا لگتا ہے کہ تان سین اگر زندہ ہوتا تو اپنی تان کو اپنے سر پر پھوڑ کر خودکشی کرلیتا۔
اللہ تمام لوگوں کو فیس بک اور واٹس ایپ گروپوں سے بچائے۔

جمعہ، 19 اپریل، 2013

فتنہ قادنیت کا پرچار: —یہ قلم کسی کا غلام ہے

بشکریہ: محمدجنید رانچوی ایم اے، نائب ڈائریکٹر:مرکزالتراث اسلامی دیوبند

اب قومی اخبارات بھی فتنۂ قادیانیت کے پرچارمیں ملوث!

قومی اخبارات جسے ملک وملت کاترجمان کہاجاتا ہے ،اب ان مقامات میں آزادیٔ ہندکے مخالف اورملک وملت کے غدّار،صہیونی اشارے پرچلنے والی تحریک سے منسلک افراد،نام نہاد''احمدیت''قادیانی گروہ کے افراد،قومی اخبارات کے کارندوں کے ساتھ ملکرغیراسلام کواسلام مذہب سے جوڑنے کی ایک بارپھرناپاک سازش رچی ہے اوراس کے لئے بے سروپاکی خبرکوبنیادبنایاہے۔گذشتہ دنوں13اپریل2013ئکو روزنامہ ہندوستان اکسپریس دہلی میںایک جلی عنوان''35 لاکھ احمدی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے''صفحہ4 پرپڑھنے کوملا،یہ خبرپڑوسی ملک کے مرزائیوں کی شرارت پرمشتمل ہے،تعجب کی بات تو یہ ہے کہ انڈوپاک کے اخبارات میں سے صرف ''روزنامہ ہندوستان اکسپریس دہلی''کوہی یہ خبرکیسے ہاتھ لگی؟ جبکہ جہاں کا واقعہ ہے وہا ں کے کسی اخبارنے اب تک اس سلسلے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا ہے ،بلآخراس خبرکوہندوستان میں چھاپ کرہندوستانی مسلمانوں سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟۔مرزائیوں کی جمعیت وحمیت دکھانا چاہتے ہیں یاہندوستانی امن کوانتشارمیں بدلنا چاہتے ہیں؟۔اولاً:قادیانیوں کواحمدی کہنا ہی خاتم الانبیاء جناب محمدرسول اﷲصل اﷲعلیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکارکرنا ہوتا ہے ،کیونکہ مرزاغلام احمدکادیانی خودکوحضورصلی اﷲ علیہ وسلم کاپنرجنم بنام ''احمد(ۖ) ''منسوب کرکے اپنی اسلام مخالف تحریک کا نام احمدیت رکھا ہے،ثانیاً:اس قادیانی تحریک کا اسلام مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے،یہ اسلام کے مقابل میں مستقل ایک فتنۂ ہے،جس کا کوئی لگام نہیں۔یہ ہمیشہ اپنے دہریت زدہ نظریات کوچھپاکراسلامی نظریات کواپنانظریہ بتلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ اپنے گروگھنٹال کی تعلیمات کو پسندبھی نہیں کرتے اورمنشی کادیانی کونبی،مہدی اورمسیح ماننے سے انکاربھی نہیںکرتے۔ جبکہ مرزاکادنی کے یہ سارے دعوے ڈھکوسلے پرمشتمل ہیں ،حقیقت سے اس کاکوئی واسطہ نہیں ۔اﷲ کے آخری نبی اورسچےّ رسول صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعدقیامت کے قریب بہت سے فراڈی مسلمانوں کے ایمان پرڈاکہ زن ہونگے،انہی میں سے منشی مرزاغلام احمدکادیانی بھی ہے۔اس طرح کے اوربھی بہت سارے واقعات رونماہوچکے ہیں اورہوتے ہی رہتے ہیں چنانچہ تازہ رپورٹ کے مطابق مہدی ہونے کے دعویدارجوگذشتہ چندبرسوں میں نمودارہوئے ہیں ،نمونہ کے طورپرملاحظہ فرمائیں: 

منگل، 1 جنوری، 2013

سال نو کی آمد

سال نو کی آمد آمد ہے، ہر شخص بیم ورجا کے دوراہے پر کھڑا ہے، سال گذشتہ کے دیئے زخم ابھی تازہ ہیں، زخموں کی ٹیس ابھی ختم نہیں ہوئی ہے… ہر چہرہ افسردہ افسردہ … ہر دل غمگین غمگین … ہر آنکھیں نمدیدہ نمدیدہ… ۔ہم نے گذشتہ سال کا استقبال خوشی اور امید بھرے انداز میں کیا تھا، نئے خواہشیں کروٹ لے رہی تھیں، نئے جذبے ابھر رہے تھے، دل تمناؤں سے لبریز تھے، نگاہیں نئے بہار کا راستہ تک رہی تھیں … نیا سال آیا خوشی ومحبت کا پیغام لایا لیکن جاتے جاتے غم واندوہ کا طوفان برپا کرگیا۔ بہت سارے زخموں سے دلوں کو چھلنی کرگیا    ایسے ایسے یادوں سے ہمارا دامن بھر گیا کہ اس سے کبھی چھٹکارا نہیں مل سکتا۔
ان تمام چیزوں کے ہوتے ہوئے آخر ہم نئے سال کا استقبال کریں تو کس امید پر؟ سال نو کی خوشیاں منائے توکیوں کر؟ کیا یہ سال امید افزا ہوگا، اپنے ساتھ خوشیاں لائے گا، محبت کے نغمے گنگنائے گا، دلوں کو جوڑے گا، گلوں کی بہار لائے گا، نفرتوں کو ختم کرے گا، انسانیت کا امرت پلائے گا، عزت وعفت کی حفاظت کرے گا، بھائی چارے کو بڑھائے گا۔لیکن ہم تو انسان ہیں اور انسان ''آشا وادی'' ہوتا ہے۔ امید وخوف، بیم ورجا کے درمیان جیتا ہے ویسے بھی ناامیدی حرام ہے۔ اسی امید ورجا کا سہارا لیکر آئیے ہم اور آپ سب مل کر نئے سال کا استقبال کریں۔ نفرت وکدورت کو بھلاکر خوشی ومحبت کے ساتھ آپس میں گلے ملیں۔ 

بدھ، 5 دسمبر، 2012

انسانیت کا عالمی منشور

Clik Here To Dowloand PDF File

حجة الوداع کے موقع سے میدان عرفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جو خطاب فرمایا تھا اس کی اہمیت اس لیے بھی تھی کہ امت کے اتنے بڑے جم غفیر سے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطاب تھا ، آپ اپنی اونٹنی قصواءپر سوار تھے ، اور سیدنا بلال صاس کی نکیل تھامے ہوئے تھے ، اس کا لعاب انکے کندھے پر بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کو خاموش کرانے کا حکم دیا ، جب انہوں نے مجمع کو خاموش کرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لوگو! میری بات سن لو ! کیونکہ میں نہیں جانتا ، شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی نہ مل سکوں۔تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی، اور اس شہر کی حرمت ہے۔سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاو ¿ں تلے روند دی گئی، جاہلیت کے خون بھی ختم کردئے گئے ، اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کررہا ہوں ، وہ ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کے بیٹے کا خون ہے …. یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ ان ہی ایام میں قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کردیا …. اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارے کا سارا سود ختم ہے۔ہاں عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے ، اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو آنے نہ دیں جو تمہیں گوارا نہیں ، اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مارسکتے ہو ، لیکن سخت مار نہ مارنا ، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاو۔اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ، اور وہ ہے اللہ کی کتاب۔“(مسلم )
”لوگو ! یاد رکھو! میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، لہٰذا اپنے رب کی عبادت کرنا، پانچ وقت کی نماز پڑھنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، اور خوشی خوشی اپنے مال کی زکاة دینا ، اپنے پروردگار کے گھر کا حج کرنا اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا، ایسا کروگے تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوگے۔“( ابن ماجہ، ابن عساکر ، رحمة للعالمین1/263)
”اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے، تو تم لوگ کیا کہوگے ؟ صحابہ ثنے کہا : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچادیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرمادیا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا : ” اے اللہ! گواہ رہ “۔( مسلم )
اس کے بعد یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی :
” آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ، اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ، اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا “۔( مائدہ :3)سیدنا عمر بن خطاب ص نے جب یہ آیت سنی تو رونے لگے ، دریافت کیا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا : اس لیے کہ کمال کے بعد زوال ہی تو ہے۔ ( بخاری )خطبہ کے بعد سیدنا بلال ص نے اذان دی اور پھر اقامت کہی، اسکے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکی نماز قصر کرکے پڑھائی ، پھر اقامت کہی گئی تو عصر کی نماز قصر پڑھائی۔

جمعرات، 18 اکتوبر، 2012

اسلام میں عید کا فلسفہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اسلام ایک دین فطرت ہے۔ اسکے تمام اوامر اور احکام انسانی فطرت اور نفسیات کے عین مطابق ہیں۔ ہر انسان فطری طور پر اپنے اندر خوشی اور غمی کے جذبات رکھتاہے اور اپنے اپنے موقع پر گرد وپیش سے متاثر ہوکر ان جذبات میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور انکے اظہار کیلئے مناسب وقت اور موقع کا متلاشی رہتاہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر قوم کے کچھ خاص تہوار اور جشن کے دن ہوتے ہیں جس میں اس قوم کے لوگ اچھا لباس پہنتے ہیں اور عمدہ کھانے کھاتے اور مختلف طریقوں سے اپنی مسرت وخوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
لوگوں میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ خوشی اور غمی میں سب کچھ جائز ہے۔ اسلام اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتا بلکہ اسلامی تعلیمات کی روح یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کا اظہار اس حد تک کرے کہ اللہ اور اسکے رسول کے احکام پامال نہ ہوں اور کتاب وسنت کی تعلیمات کی مرکزی حیثیت بر قرار رہے۔ اگر کوئی شخص خوشی یا غمی میں جذبات سے مغلوب ہوکر احکام الہیہ نظر انداز کرکے اللہ اور اسکے رسول کو فراموش کردیتا ہے تو وہ انسان نہیں ہے۔ انسانیت کے نام پر بد نما داغ ہے۔ انسانی لبادہ میں حیوان ہے۔ اسے آدمی کہنا آدمیت کی تو ہین ہے۔
بہادر شاہ ظفر کہتے ہیں۔ 
 ظفر آدمی اسکو نہ جانئے گا ، ہو وہ کتنا ہی صاحب فہم وذکا 
 جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
 اسلام نے انسان کی فطری خواہشات کو دبا نے یا ان پر قدغن لگانے کی بجائے اپنے اوامر ونواہی میں انہیں پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔اسلام انسانی خوشی میں حائل نہیں ہوتا بلکہ اسے مناسب طریقہ پر لطف اندوز ہونیکی اجازت دیتا ہے مگر وہ یہ نہیں چاہتا کہ انسان اشرف المخلوقات کے دائرے سے نکل کر جانوروں اور حیوانوں کی صف میں شامل ہو جا ئے۔ عید کی تقریبات سالانہ منانے کا حکم اور اسے عبادت کے رنگ میں رنگنے کے اندر اسلام کی یہی حکمت عملی کار فرماہے۔ اسلام یہ چاہتاہے کہ مسلمانوں کو عید کی خوشیاں مادر پدر آزاد ہوکر نہیں منا نی چاہئیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اور اطاعت کرکے اپنی عید کو عبادت اور روحانی ترقی کا ذریعہ بنالینا چاہئے۔
کسی عر بی شاعر نے کیا خوب کہاہے ۔
 لیس العید لمن لبس الجدید 
انما العید لمن خاف الوعید
ترجمہ : عید اس کی نہیں ہے جس نے نئے کپڑے پہنے بلکہ عید تو اسکی ہے جس نے اللہ کا ڈر اور خوف اپنے اندر پیدا کیا۔
” اسلام میں عید کی سالانہ تقریبا ت کا آغاز“
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہود مدینہ اور ان کے زیر اثر اقوام سا ل میں دومرتبہ عید مناتے اور خوشی کے اظہار کیلئے تقریبات منعقد کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کی اتباع سے منع فرمایا اور اللہ تعالی کے حکم سے دو نئے دن مقرر فرمادئیے اور ان میں اسلامی طریقہ کے مطابق خوشیاں منانے کا حکم دیا۔

پیر، 15 اکتوبر، 2012

جہیز اور آج کا ماحول

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
آج کے ماحول اور حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد بڑے ہی قلق اور افسوس سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ روز بروز جہیز کا مطالبہ عام ہوتا جا رہا ہے اور جو عورت کم جہیز لے جائے اس کو کوسنے سے لے کر ستانے، طلاق دینے، یہاں تک کہ جلانے اور مار ڈالنے تک کے واقعات سننے میں آتے ہیں۔ صد افسوس! ایک پاکیزہ رشتہ جسے رب کائنات نے پاکیزہ اور عظیم مقاصد کےلئے جاری کیا، جو عہد رسالت، عہد صحابہ اور عہد اسلاف میں بڑے پاکیزہ اور سادہ طریقہ سے عمل میں آتا رہا آج بے غیرت خاندانوں اور نوجوانوں نے اسے نفع جوئی اور زر طلبی کا ایک کاروبار سمجھ لیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا علاج کیا ہے۔ اور سلسلہ میں عوام و خاص کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
جہیز کی حرص کیوں؟ہمیں اس سلسلہ میں پہلے غور کرنا ہو گا کہ جہیز کی کمی کی وجہ سے عورتوں کو ستانے والے جوان اور خاندانوں میں یہ حریصانہ طبیعت اور ظالمانہ جرا ¿ت کیسے پیدا ہوئی اور اس کے اسباب و عوامل کیا ہیں؟
جواباً مختصر لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ حریصانہ طبیعت حب دنیا کی پیداوار ہے اور ظالمانہ جرا ¿ت دین سے دوری کا نتیجہ ہے بلکہ جارحانہ حد تک حب دنیا بھی دین سے دوری اور اس کے اصول و مقاصد سے بے تعلقی ہی کا شاخسانہ ہے۔اس لئے کہ جو یہ جانتا ہو کہ دین اسلام اور ہر معتدل قانون اس کی اجازت دے سکتا ہے کہ آدمی اپنی کوشش و محنت سے جتنا چاہے مال کمائے مگر دوسرے کے مال کی طمع اور اسے اپنا مال بنانے کی حرص یقینا مذموم اور گھٹیا طبیعت ہی کی پیداوار ہے۔ جو آدمی ایسی طبیعت سے پاک ہو وہ کبھی بھی بیوی کے مال و دولت کا حریص نہیں ہو سکتا۔ 
جہیز کا مالک کون ہے؟ اسلامی نقطہ نظر سے تو جہیز کا سارا سامان جو بیوی شوہر کے گھر لائے تمام تر بیوی ہی کی ملکیت ہے۔ اس پر زکوٰة فرض ہو تو اس کی ادائیگی بیوی ہی کی ذمہ داری ہے۔ اور اس کا استعمال کوئی دوسرا اگر کرنا بھی چاہے تو بیوی کی رضا مندی اور اجازت ہی پر منحصر ہے۔ لیکن اس کے برخلاف جن خاندانوں اور جوانوں میں یہ عقیدہ جڑ پکڑ چکا ہے کہ ولہن کا سارا مال ہماری ملکیت ہے اور ہم اسے جیسے چاہیں استعمال کریں ان لوگوں کی دین اور اس کے مسائل و مقاصد سے دوری بالکل عیاں ہے۔