Labels

مضامین (11) تراشے (8) ادبی مضامین (5) شخصیات (2)
‏تراشے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تراشے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 11 جنوری، 2025

’’اردو جرنل- 15 ‘‘: خدائے سخن کی استادی کو عقیدت مندانہ خراج

ڈاکٹر شاہد وصی 

میر تقی میرؔ کو آپ خدائے سخن مانیں یا نہ مانیں، اس کے سر پیغمبرانہ سخنوری کا تاج سجائیں یا نہ سجائیں، اس حقیقت سے مفر نہیں کہ میر کی شاعری ایک ایسی کائنات ہے جس میں جذبات، احساسات، غم اور خوشی کے بے شمار رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی غزلوں نے محبت کی لطافت، درد کی شدت، اور زندگی کی گہرائیوں کو بڑے دلکش اور سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد میر کی شاعری دو صدی گزرنے کے بعد آج بھی اتنی ہی پرکشش اور جاذب قلب و نظر ہے ۔ ’’نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب‘‘، ’’کہتے ہیں اگلے
زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا‘‘اور ’’کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے‘‘ کے ذریعہ ذوقؔ، غالبؔ سے لیکر عہد حاضر کے کلیمؔ تک نے میر کے انداز اور سخنوری کے سامنے اپنی جبین عقیدت خم کی ہے۔  میرؔ اردو شاعری کے ایسے لعل ہیں جن کی شعریات کی تفہیم و تعبیر ہر دور کے ناقدین نے کی ہے۔ عہد تذکرہ سے لیکر جدید تنقید نگاری تک سبھی ناقدین نے میرؔ کی شاعری کے مختلف جہات کو روشن کیا ہے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ میرؔ کی کائنات میں نئے جہانِ معانی کی تلاش و دریافت کی ہے۔ میرؔ کو گزرے دو سو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا، لیکن ان کے کلام کی آفاقیت و ہمہ گیری آج بھی ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا علمی ، ادبی و تحقیقی ترجمان ’’اردو جرنل ۱۵‘‘ کا حالیہ شمارہ بھی میرؔ تقی میر کی استادی کو عقیدت مندانہ خراج ہے۔ یہ مجلہ اردو کے معروف ناقد و دانشور اور فکشن تنقید کے حوالے سے استنادو مراجعت کا درجہ رکھنے والے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کی ادارت میں تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اس مجلے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ یو جی سی کے کیئر لسٹ میں شامل ہے، جو اس کے تحقیقی شان کی علامت ہے۔ 

اردو جنرل ۱۵ کا حالیہ شمارہ میر تقی میرؔ کی کل کائنات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہاں عام قاری کے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ آخر دو ڈھائی صدی گزرنے کے بعد میر تقی میرؔ کے فکر فن کے تعلق سے شمارہ نکالنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟ اس کی عصری معنویت کیا ہے؟ میر پر اتنے تحقیقی کام ہوچکے ہیں کہ آج ’’میریات‘‘ کی حیثیت ایک صنف کی سی ہوگئی ہے، ایسے میں آخر کن نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ روا روی کے انداز میں برسوں سے چبائے ہوئے مضامین و مقالات ہی یکجا کردیئے گئے ہوں اور روندی ہوئی راہگزر پر چلنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مجلے کے مدیر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنے اداریے کی ابتدا کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 

بدھ، 14 ستمبر، 2022

جو ہوا، سو ہوا

شاہد وصی 
نامعلوم ماقبل تاریخ سے آج کی معلوم و مشاہداتی دنیا تک انسانی معاشرت میں آپسی ناچاقی، فساد وبگاڑ اور باہمی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے جتنی بھی مصالحانہ کوششیں ہوئی ہیں اور صلح وصفائی کی جتنی بھی نشستیں لگی ہیں، ان تمام میں ایک مشترک جملہ ’’مضی ما مضی‘‘ ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ مصالحت کی کلائمس میں ضرور سنائی دیتا ہے۔ دنیا انگنت کروٹیں لے چکی، صدیاں بیت گئیں ، ہزاروں سال کا عرصہ گزر گیا، اس دوران خدا معلوم کتنی بستیاں بسیں اور پیوند خاک ہوگئیں، نسل در نسل لوگ آتے گئے اور گور غریباں میں حشرات الارض کی خوراک بنے، آبادی وخرابی کا یہ لا متناہی سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ اس تمام عرصے میں ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ کی صدائے بازگشت بھی مصافحہ ومعانقہ کے ہم قدم چلی آرہی ہے۔ 
’’جو ہوا، سو ہوا ‘‘یہ جملہ دیکھنے میں جتنا مختصر اور چھوٹا ہے، حقیقت میں اس کی سحر انگیزی وثمر آفرینی احاطۂ تحریر سے پرے ہے۔ یکلخت دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں، آناً فاناً قلبی کدورتیں بیاباں کی راہ پکڑتی ہیں، ناگاہ دوریاں نزدیکی سے ہم آغوش ہوجاتی ہیں، اچانک منظر کا منظر بدلا بدلا سا نظر آتا ہے اور چشم زدن میں حقیقتاً ’’جو ہوا‘‘ قصہ پارینہ بن جاتا ہے اور تعلق و لگاؤ کی ایک نئی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ 
جتنے بھی سماجی مصلحین اور انسانی نفسیات کے شناسا گزرے ہیں، تمام نے اصلاح اور نفسیاتی گتھیوں کی گرہ کشائی کے لیے اسی جادوئی جملے کا سہارا لیا ہے اور یقین مانیے اسی ایک جملے سے سماج و معاشرے کو لا شمار خوشیاں ملی ہیں۔ 
آپ نے شیخ ظہور الدین حاتمؔ کا نام سنا ہی ہوگا۔ 
نہیں
کیا کہتے ہو میاں؟
ارے بھائی! وہی دلی والےسپاہ پیشہ، مرزا محمد رفیع سودا کے استاد۔ ان کا ایک شعر دیکھئے۔ 
یوں نہ ہو، یوں ہو، یوں ہوا سو کیوں 
کیا ہے یہ گفتگو، ہوا سو ہوا 
اور ایک شعر موسیقار نوشاد کی زبانی بھی سنئے۔
چھوڑو جانے دو جو ہوا سو ہوا 
آج کیوں کل کی بات یاد کرو 
یہی کل کو بھول کر اور ہوچکے پر چادر فراموشی ڈال کر نئے آج کی شروعات ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ کا تتمہ کہلاتا ہے۔ لیکن یہاں تھوڑا ٹھہر کر، قدرے توقف سے خیال وفکر کے گھوڑے اس طرف بھی دوڑانے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر مسئلہ میں ’’جو ہوا سوہوا‘‘ کا فارمولہ کارآمد ہے؟ کیا ہر طرح کے فساد و بگاڑ کیلئے یہ نسخہ یکساں طور سے نسخۂ کیمیا کا درجہ رکھتا ہے؟ اور اسی ایک دوا سے ہر مرض کا تیر بہدف علاج کس حد تک درست ہے؟ 

جب ہم سماج میں رونما ہونے والی متنوع شرانگیزیوں اور قسم قسم کی فتنہ سامانیوں کو دیکھتے ہیں اور فساد و بگاڑ کی مختلف شکلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر ان جرائم و واردات کو سماج، نفسیات اور معاش کے مختلف پیمانے پر پرکھتے ہیں تو ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ ہر فساد کے بعد 'جو ’’ہوا سو ہوا‘‘ کا فارمولہ قطعی درست اور کارگر نہیں ہے۔ بلکہ بعض واقعات میں اس فارمولے کے بدترین اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ ظلم وستم اور جبر و زیادتی اگر پدرم سلطان بود والی نفسیات کی پیداوار ہے اور اس کے پس پشت اگر کلیم عاجز کی زبانی ’’وہ صنم بگڑ کے مجھ سے مرا کیا بگاڑ لے گا‘‘ والی ذہنیت کارفرما ہوتی ہے ، تو ان معاملات جنگ وجدل میں مصالحت کے دوران ’’جو ہوا سو ہوا‘‘والے فارمولے کو بروکار لانے سے ہمیشہ ظالموں اور زبردستوں کو یک گونہ ایڈوانٹیج ہی ملتا ہے۔ اور بے چارہ ستم رسیدہ زیر دست یا تو اگلی زیادتی کے لیے تیار رہتا ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی زبان صدائے زیر لبی کی بھی ہمت نہیں جٹا پاتی ہے۔ اس طرح کے فساد وبگاڑ اور ظلم وزیادتی میں ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ سے پہلے ’’جو ہوا وہ کیوں ہوا‘‘ اور ’’جو ہوا پھر نہ ہو‘‘ جیسی گتھیوں کو سلجھانا بہت ضروری ہے۔ ان پیچ وخم کی گرہ کشائی کے بغیر نہ تو ظلم پر لمبے عرصے کے لیے قد غن لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی زیر دستوں کی آہ وکسک زیر لب سے باہری دنیا تک پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا جو ہو سوا کی اپنی دل آویزی و کشش کے باوجود کیوں ہوا؟ اور پھر نہ ہو جیسے نفسیاتی پہلوؤں پر غورکرنے سےہی معاشرے میں تادیر امن قائم کیا جاسکتا ہے اور کامل انصاف کے ساتھ ہی مصالحت کی کوششیں حقیقی معنی میں بار آور ہوسکتی ہیں۔ 



منگل، 23 جون، 2020

مشھود وصی ابن شاہد وصی ابن وصی احمد ابن اسرائیل ابن حنیف

تمام تعریفیں اسی داتائے یکتا اور دانائے اسرار و رموز کے لئے جس کی مشیت کے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، جو داتاوں میں داتا اور داناوں میں سب سے دانا ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں، ایک بحر ناپیدا کنار ہے، جو نوازتا ہے اور بے حد و حساب نوازتا ہے بلکہ چھپر پھاڑ کے نوازتا ہے،
اسی کی مشیت ہوئی اور میرے گھر آنگن اور خانوادئے وصی میں 4 اگست 2019 مطابق 2ذی الحجہ 1440ھ کو ایک ننھے سے وجود نے آنکھیں کھولی-

پڑھیئے ایک مزاحیہ وطنزیہ تحریر

اختلاف کیا ہے اور اس کے لئے کون سے اصول ضروری ہیں: ایک چھوٹی تحریر

سو اے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات، اے ہواوں میں محو پرواز چرند و پرند سنو اور کان کھول کے سنو اور سن کر ساری کی ساری کائنات میں ، تمام سیاروں و ستاروں کے روبرو، ہر طرح کی کہکشاوں کے اندر اور اس سے بھی پرے ، دور بہت دور ، ہر اس جگہ جہاں کوئی نفس و ہستی موجود ہے یہ خبر عام کردو کہ آج سے اس ننھے وجود کو جو بطن زوجہ شاہد سے بہ مشیت ایزدی ہماری دنیا میں آیا ہے مشہود وصی کے نام سے پکارا جائے
اور
اے وہ کہ جو یہ اعلان پڑھ رہا ہے رب کائنات کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور بھیگی آنکھوں و تڑپتے دل سے دعا گو ہوں کہ مشھود وصی کا اقبال بلند ہو، خدا دنیا جہان کی تمام نیک نامیاں اس کی جھولی میں ڈال دے، اس کے حصے میں صداقت، دیانت، لیاقت، حلم و بردباری اور اطاعت و وفاشعاری آئے، اس کا ہر قدم اعلا کلمہ اللہ کے لئے اٹھے، اس کی پوری تگ و دو دین کی سربلندی میں صرف ہو اور اس کی مکمل زندگی کا مقصد دین الہی کی سرفرازی ہو

کروونا سے احتیاط اور بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر


پیاری اریبہ 
تاریخ پیدائش: 15 جون 2016
سدا ہنستی مسکراتی رہو 
تمہارے سامنے عید کی کیا حیثیت، تمہاری ایک کلکاری پر ہزاروں عید قربان، تم ہو تو بہار کی یہ رعنائیاں کیا، تمہارے وجود سے ہی زندگی کی یہ رنگینیاں ہیں، اس حیات مستعار میں تم ہی وہ خدائی عطیہ ہو جس کا کوئی بدل نہیں، تمہیں ابھی اس کی خبر نہیں کہ تمہاری ایک مسکراہٹ سے ہمارا وجود لطف و کیف کی نہ جانے کیسی کیسی بلندیاں طے کر لیتا ہے اور تمہارے ننھے ننھے ہاتھوں کے لمس سے کیسی بہشتی مسرت ملتی ہے، خدا تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے، تمہیں دنیا جہاں اور آخرت کی وہ وہ نعمتیں ملے جس کا تمہارا باپ تصور بھی نہیں کرسکتا
تمہارا خوش نصیب باپ

اتوار، 11 مئی، 2014

ماں 


اے ماں تیری عظمت کو سلام

 
اس رنگ برنگی دنیا کی سب سے حسین اور خوبصورت شئے ماں ہے۔ خدائی مخلوقات میں سب سے مکرم اور محترم مخلوق ماں ۔ ماں کسی خاص دن کی محتاج نہیں۔ ہر دن ، ہر گھنٹہ، ہر منٹ، ہر سکنڈ ماں کے نام۔


جمعہ، 25 جنوری، 2013

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص

بے پایاں رحمتوں، لامحدود شفقتوں، بے کراں عنایتوں، بے کنار محبتوں اور بے انتہا برکتوں والا عظیم دن۔ افق تا افق پھیلی دائمی روشنیوں کی تابندہ علامت، زندگی کے اجلے قرینوں، شفاف جذبوں اور مصفیٰ سوچوں کا امین دن جو حیات انسانی کے ہر گوشے میں نور افشاں ہے۔ جو انفس و آفاق پر ٹھنڈی چھاؤں کے سکوں بخش خیمے کی طرح تنا ہوا ہے۔ وہ ایک دن جو زمانوں پر محیط ہے۔ درود و سلام کی محفلیں، نعت کے زمزمے ، معطر تذکروں سے مشکبو اجتماعات، پھیلے ہوئے دامن، دعاؤں بھرے ہاتھ، کپکپاتے ہونٹ، اشک بار آنکھیں، جگمگاتی پیشانیاں، تمتماتے چہرے۔
لیکن عشق و مستی کے ان مظاہروں کے باوجود زندگی بدل کیوں نہیں رہی؟ ہمارے دلوں میں وہ گداز کیوں پیدا نہیں ہورہا جو دعاؤں کو مستجاب اور رحمتوں کو بے حساب کردیتا ہے؟ ہمارا تن بدن اتنا ویران کیوں ہوگیا ہے؟ سینے میں کوئی چراغ آرزو ہے نہ دل میں کوئی شرار جستجو؟ ہماری طلب کا شرر اتنا بے ثمر کیوں ہوگیا ہے؟ ان منور تعلیمات کا عکس جمیل ہمارے کردار و عمل کے کسی پہلو میں اجاگر کیوں نہیں ہورہا جن تعلیمات نے صحرائے عرب کے شتربانوں کو زمانے بھر کا پیشوا بنادیا تھا؟ ہم کہ گالیاں کھا کر دعائیں دینے والے کا اسم مبارک سنتے ہی انگوٹھے چوم لیتے ہیں، باہمی نفرتوں اور کدورتوں کی آگ میں کیوں بھسم ہورہے ہیں؟ امیری میں فقیری کرنے والے کا غلام ہوکر بھی ہماری ہر سانس آسائشوں اور آرائشوں سے کیوں بندھی ہے؟ ہم جو میلاد النبی کے نام پر تقریبات سجاتے اور اپنا جوہر خطابت دکھانے کے لئے حرف و بیاں کی طرح داریوں اور لہجے کی طراریوں کو نکتہ کمال پر لے جاتے ہیں، اپنی نجی زندگیوں میں اتنے چھوٹے کیوں ہوجاتے ہیں کہ اقتدار کی راہ داریوں میں حشرات الارض کی طرح رینگنے کو بھی سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں؟ میلاد کے جلسوں میں ہماری شعلہ بیانی چند لمحوں کے اندر اندر صاحبان اختیار و اقتدار کی قصیدہ خوانی میں کیسے ڈھل جاتی ہے؟ شہنشاہ کون و مکاں کی جوتیوں کی خاک کو اپنی آنکھ کا سرمہ بنانے والے، چھوٹی چھوٹی لذتوں اور ذرا ذرا سی رعایتوں کے لئے اپنے آپ کو جنس بے مایہ کیوں بنا لیتے ہیں؟ عشق مصطفی کو اپنا اعزاز و امتیاز بنانے والے، بدلتے موسموں کے حضور عجز و انکسار کی تصویر بن جانا کیسے گوارا کر لیتے ہیں؟ ان کی آنکھیں سیر اور ان کے دل غنی کیوں نہیں ہوتے؟ دونوں جہانوں کے لئے رحمت بن کر آنے والے نبی سے عشق و محبت کا اظہار کرنے کے باوجود ہم ایک دوسرے کی گردنیں کیوں کاٹ رہے ہیں؟ امن ، محبت، اخوت اور ہمدردی کا درس دینے والے محمد عربی سے رشتہ جوڑنے کے باوجود ہماری بستیاں قتل گاہیں کیوں بنی ہوئی ہیں؟ جوئے خوں تھمنے میں کیوں نہیں آرہی؟ درود و نعت کی سوغاتوں، درد سے لبریز مناجاتوں اور رنگ و نور کی برساتوں کے باوجود سورج سوا نیزے پہ کیوں کھڑا ہے؟“کیوں؟ آخر کیوں؟ ؟؟؟

اتوار، 6 جنوری، 2013

ٹھنڈی آئی رضائی لائی

موسموں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اس جہاں رنگ وبو کی رنگینیاں اور رعنائیاں انہی موسموں کی آمد ورفت سے قائم ہے۔ کبھی گرمی آتی ہے اور ہمیں بے شرمی کی حد تک ننگا کردیتی ہے، معاً اس کے بعد سردی دستک دیتی ہے اور منوں اونی پوشاک اوڑھا کر بے چارہ بنا دیتی ہے۔ کبھی آسمانوں پر کالے کالے بادل منڈلانے لگتے ہیں اور جھوم جھوم کر پیاسی زمین کو ترو تازہ کردیتے ہیں۔ کبھی سورج اتنا قہر ڈھاتا ہے کہ زمین کی چھاتی شدت پیاس سے پھٹ جاتی ہے اور زندگی گذارنی مشکل ہوجاتی ہے۔ کبھی خزاں کا موسم آتا ہے اور کھیتوں کی ہریالی، درختوں کی شادابی، چہروں کی چمک تمام چیزیں چھین لے جاتا ہے لیکن پھر فصل بہاراں تمام جہان کو اپنے آغوش میں لے لیتا ہے اور ہر طرف شادابی وہریالی اور رونق وزینت کی بہار آجاتی ہے۔ ان موسموں کی تاثیر اور ان کی شدت وحدت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ کسی سال گرمی اپنے سابقہ تمام ریکارڈوں کو توڑ دیتی ہے تو کبھی سردی اندازوں سے بڑھ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرتی ہے۔ 
اس سال بھی سردی اپنے پورے شباب اور جوبن کے ساتھ لوگوں کو لبھانے آئی ۔ خیر اکتوبر کا مہینہ تو خیر وخوبی کے ساتھ گذر گیا، اس ماہ سردی نے اپنی آمد کی اطلاع دے دی اور اپنے تیور سے بھی لوگوں کو خبردار کردیا۔ نومبر اور دسمبر میں تو اس کے چہرے کی سلوٹیں اور اس کے تیور تاریخ رقم کرنے پر کمر بستہ تھے چنانچہ جنوری میں اس نے سنگ میل طے کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس سردی اور اس کے بے رحم ٹھنڈ تھپیڑوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے عباس بھائی دوڑ کر بازار سے رضائی خرید لائے۔ انہوں نے رضائی کیا خریدی گھر میں مہا بھارت شروع ہوگیا۔ ہر کوئی سردی کو اپنا دشمن بتاتے ہوئے رضائی پر اپنا حق استعمال جتانے لگا۔ اس مہا بھارت کی تفصیل بتانے سے قبل میں یہ بتانا بہتر سمجھتا ہوں کہ عباس بھائی میری ہی طرح افزائش نسل کی کثرت اور کثیر العیال فلسفہ کے قائل ہیں۔ وہ تین یا پانچ سال کے بجائے ہر سال ایں قدر اور آں قدر پر یقین رکھتے ہیں اور اس یقین محکم پر ان کا عمل پیہم بھی جاری ہے۔ الحمد للہ تیس کے دہاکے ہی میں انہوں نے چھ سات سرمایہ ذخیرہ کر رکھا ہے اور بڑھاپے کی زائد از پنچ لاٹھیاں اکٹھی کرچکے ہیں۔ 
تو خیر بال چل رہی تھی رضائی کی خریداری کے بعد برپا ہوئی مہا بھارت کی ۔ان کا دو بیڈ کا لیونگ روم ہے اور افراد ہیں سات۔ اب بے چاری رضائی ہے ایک اس کنارے سے اس کنارے تک کو اپنے دامن میں سمیٹنا اس کے بس سے باہر تھا۔ اب ہوتا یہ کہ ابتدائی شب میں تو ہر کوئی تھوڑے تھوڑے حصہ پر براجمان ہوجاتا لیکن درمیانی شب میں جب کوئی کروٹ لیتا تو دوسرے کی پیٹھ کھل جاتی اور دور کھڑا ظالم سردی اپنا پنجہ استبداد اس پر جڑ دیتا جس سے تلملا کر وہ رضائی کھینچتا تو دوسری طرف سردی پہنچ جاتی۔ اسی طرح یہ کھینچا تانی جاری رہتا جب تک کوئی زخمی ہوکر میدان کارزار میں نہ گر جاتا اور صبح تک اسی طرح پڑا رہتا۔ اس تیسری جنگ عظیم اور مہا بھارت کو ختم کرنے کیلئے بسیار سوچ ووچار کے بعد عباس بھائی نے رضائی کو تہہ کر ایک کونہ میں ڈال دیا اور پہلے والا کمبل ہر ایک کے حوالے کردیا۔ اس تحریر سے کسی کے جذبات سے کھلواڑ مقصور نہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہے ان لوگوں کے نام جو کثیر العیال فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں کہ خدارا سردی سے مقابلہ آرائی کیلئے ایک کی بجائے دو تین رضائی خریدیں۔ 

جمعہ، 4 جنوری، 2013

.... سائیکل کھوگئی


اس جہان ہست وبود میں دریافت ونایافت کا سلسلہ لگا رہتا ہے۔کوئی کھوتا ہے تو کوئی پاتا ہے۔ کسی کے نصیبے کا آفتاب بادلوں کو کاٹ کر اپنی کرنیں بکھیرتا ہے تو کسی کی قسمت پر بدبختی کا ناگن اپنا پھن پھیلا دیتی ہے۔ روز ازل سے لیکر آج تک اس جہان بے ثبات میں جس کسی کا بھی وجود ہوا اس نے کچھ پایا تو کچھ کھویا۔ ہمارے عزیز شاہد ذبیح جو میرے ہم نام بھی ہیں نے بھی کھویا ہے ۔ اور وہ بھی ایسی چیز جو انہیں بیش از جان ودل عزیز تھی۔ اس کے آرام کے لئے، اس کی زیب وزینت کے لئے خدا معلوم انہوں نے کتنا خیال رکھا، اس کے پیچھے انہوں نے سینکڑوں روپے خرچ کئے۔ خود پیادہ پا سفر کیا لیکن اسے تکلیف نہیں دی، خود ناشتہ نہیں کیا لیکن اس کی زندگی کیلئے درکار چیزیں مہیا کرائیں۔
آپ سوچ رہے ہونگے آخر وہ چیز ہے کیا؟ تو چلئے ہم اس سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ان کی سبک خرام، مستانہ چال والی سائیکل ہے۔ ان کی سائیکل کیا گم ہوگئی گویا ان کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، راتوں کی نیند، دن کا چین سب لٹ گیا۔ چہرے کی رونق ماند پرگئی، ہونٹوں کی مسکراہٹ عنقا ہوگئی۔ آفس والوں نے تو حد کردی۔ ان کے جذبات واحساسات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان کی محبوب سائیکل پر ایسے ایسے جملے کسے اور ایسی ایسی فقرے بازیاں کیں کہ اللہ کی پناہ ان کا دل چھلنی چھلنی ہوگیا۔ ان کے دل کے اتنے ٹکڑے ہوگئے کہ کوئی کہیں گرا کوئی کہیں۔ لیکن انہوں نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ہے جان میں جان ہم اس کی یاد کو سرمایہ حیات بنائے رکھیں گے اور خلوت وجلوت میں اس کی یاد کا دیا جلائیں گے۔

منگل، 1 جنوری، 2013

سال نو کی آمد

سال نو کی آمد آمد ہے، ہر شخص بیم ورجا کے دوراہے پر کھڑا ہے، سال گذشتہ کے دیئے زخم ابھی تازہ ہیں، زخموں کی ٹیس ابھی ختم نہیں ہوئی ہے… ہر چہرہ افسردہ افسردہ … ہر دل غمگین غمگین … ہر آنکھیں نمدیدہ نمدیدہ… ۔ہم نے گذشتہ سال کا استقبال خوشی اور امید بھرے انداز میں کیا تھا، نئے خواہشیں کروٹ لے رہی تھیں، نئے جذبے ابھر رہے تھے، دل تمناؤں سے لبریز تھے، نگاہیں نئے بہار کا راستہ تک رہی تھیں … نیا سال آیا خوشی ومحبت کا پیغام لایا لیکن جاتے جاتے غم واندوہ کا طوفان برپا کرگیا۔ بہت سارے زخموں سے دلوں کو چھلنی کرگیا    ایسے ایسے یادوں سے ہمارا دامن بھر گیا کہ اس سے کبھی چھٹکارا نہیں مل سکتا۔
ان تمام چیزوں کے ہوتے ہوئے آخر ہم نئے سال کا استقبال کریں تو کس امید پر؟ سال نو کی خوشیاں منائے توکیوں کر؟ کیا یہ سال امید افزا ہوگا، اپنے ساتھ خوشیاں لائے گا، محبت کے نغمے گنگنائے گا، دلوں کو جوڑے گا، گلوں کی بہار لائے گا، نفرتوں کو ختم کرے گا، انسانیت کا امرت پلائے گا، عزت وعفت کی حفاظت کرے گا، بھائی چارے کو بڑھائے گا۔لیکن ہم تو انسان ہیں اور انسان ''آشا وادی'' ہوتا ہے۔ امید وخوف، بیم ورجا کے درمیان جیتا ہے ویسے بھی ناامیدی حرام ہے۔ اسی امید ورجا کا سہارا لیکر آئیے ہم اور آپ سب مل کر نئے سال کا استقبال کریں۔ نفرت وکدورت کو بھلاکر خوشی ومحبت کے ساتھ آپس میں گلے ملیں۔