ہفتہ، 11 جنوری، 2025

’’اردو جرنل- 15 ‘‘: خدائے سخن کی استادی کو عقیدت مندانہ خراج

ڈاکٹر شاہد وصی 

میر تقی میرؔ کو آپ خدائے سخن مانیں یا نہ مانیں، اس کے سر پیغمبرانہ سخنوری کا تاج سجائیں یا نہ سجائیں، اس حقیقت سے مفر نہیں کہ میر کی شاعری ایک ایسی کائنات ہے جس میں جذبات، احساسات، غم اور خوشی کے بے شمار رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی غزلوں نے محبت کی لطافت، درد کی شدت، اور زندگی کی گہرائیوں کو بڑے دلکش اور سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد میر کی شاعری دو صدی گزرنے کے بعد آج بھی اتنی ہی پرکشش اور جاذب قلب و نظر ہے ۔ ’’نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب‘‘، ’’کہتے ہیں اگلے
زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا‘‘اور ’’کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے‘‘ کے ذریعہ ذوقؔ، غالبؔ سے لیکر عہد حاضر کے کلیمؔ تک نے میر کے انداز اور سخنوری کے سامنے اپنی جبین عقیدت خم کی ہے۔  میرؔ اردو شاعری کے ایسے لعل ہیں جن کی شعریات کی تفہیم و تعبیر ہر دور کے ناقدین نے کی ہے۔ عہد تذکرہ سے لیکر جدید تنقید نگاری تک سبھی ناقدین نے میرؔ کی شاعری کے مختلف جہات کو روشن کیا ہے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ میرؔ کی کائنات میں نئے جہانِ معانی کی تلاش و دریافت کی ہے۔ میرؔ کو گزرے دو سو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا، لیکن ان کے کلام کی آفاقیت و ہمہ گیری آج بھی ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا علمی ، ادبی و تحقیقی ترجمان ’’اردو جرنل ۱۵‘‘ کا حالیہ شمارہ بھی میرؔ تقی میر کی استادی کو عقیدت مندانہ خراج ہے۔ یہ مجلہ اردو کے معروف ناقد و دانشور اور فکشن تنقید کے حوالے سے استنادو مراجعت کا درجہ رکھنے والے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کی ادارت میں تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اس مجلے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ یو جی سی کے کیئر لسٹ میں شامل ہے، جو اس کے تحقیقی شان کی علامت ہے۔ 

اردو جنرل ۱۵ کا حالیہ شمارہ میر تقی میرؔ کی کل کائنات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہاں عام قاری کے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ آخر دو ڈھائی صدی گزرنے کے بعد میر تقی میرؔ کے فکر فن کے تعلق سے شمارہ نکالنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟ اس کی عصری معنویت کیا ہے؟ میر پر اتنے تحقیقی کام ہوچکے ہیں کہ آج ’’میریات‘‘ کی حیثیت ایک صنف کی سی ہوگئی ہے، ایسے میں آخر کن نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ روا روی کے انداز میں برسوں سے چبائے ہوئے مضامین و مقالات ہی یکجا کردیئے گئے ہوں اور روندی ہوئی راہگزر پر چلنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مجلے کے مدیر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنے اداریے کی ابتدا کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 

بدھ، 1 جنوری، 2025

تنقید کی زبان

ڈاکٹر شاہد وصی 

تخلیق اور تنقید کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ادب میں جتنی اہمیت ایک تخلیق کار کی ہے، اتنی ہی کسی ناقد کی بھی ہے۔ تنقید کا بنیادی مقصد تفہیم متن اور فن پارے کی تعیین قدر ہے۔ تنقید نگار قاری اور فن پارے کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ وہ فن پارے کا ادب میں معیار متعین کرتا ہے، وہیں اس کے محاسن و معائب اور قدر و قیمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ کلیم الدین کی نگاہ میں تنقید کی ادب میں وہی حیثیت ہے جو کسی باغ اور گلستان میں مالی اور باغباں کی ہے۔ جس طرح باغباں قینچی کی مدد سے مرجھائے پتے اور خشک ہوچکی شاخوں کو کاٹ کر اسے خوشنما اور جاذب نظر بناتا ہے، بعینہ یہی کام ایک تنقید نگار کے ذریعہ بھی انجام پاتا ہے۔ تنقید نگار کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ادب میں کسی فن پارے کیلئے اصول وضع کرے اور اس کے ضابطے بنائے تاکہ ایک تخلیق کار ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اپنی تخلیقات کو ادبی منزل تک پہنچا سکے۔ دیگر بہت سارے اصناف سخن کی طرح تنقید کا فن بھی اردو میں مغرب کے زیر اثر پروان چڑھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مغربی ادبیات کی آمد سے پہلے مشرق میں اردو ادبا اور دانشوران کے اندر کوئی تنقیدی شعور نہیں تھا۔ وجہی سے لیکر عہد حاضر تک کے جتنے بھی فنکار و تخلیق کار گزرے ہیں سبھوں کے اندر میں ایک اچھا تنقیدی شعور موجود تھا، کیونکہ اس کے بغیر کوئی اچھا فن پارہ وجود میں ہی نہیں آسکتا۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان میں تنقید کے باضابطہ اصول مغربی لٹریچروں کی مدد سے ہی بنائے گئے۔ آل احمد سرور اپنے ایک مضمون میں اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 


’’مغرب کے اثر سے اردو میں کئی خوشگوار اضافے ہوئے۔ ان میں سب سے اہم فن تنقید ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب کے اثر سے پہلے اردو ادب میں کوئی تنقیدی شعور نہیں رکھتا تھا یا شعر و ادب کے متعلق گفتگو، شاعروں پر تبصرہ اور زبان و بیان کے محاسن پر بحث نہیں ہوتی تھی۔ بڑے تخلیقی کارنامے بغیر ایک اچھے تنقیدی شعور کے وجود میں نہیں آسکتے۔ ‘‘
( تنقید کیا ہے؟ پروفیسر آل احمد سرور۔ ص۱۴۲)

یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی تخلیقی کارنامہ یا کوئی بھی فن پارہ اسی وقت شاہکار اور ادبی کہلاتا ہے جب اس کے تخلیقی عمل میں تنقیدی شعور اور فنی بصیرت کام کررہی ہوتی ہے۔ اردو میں باضابطہ تنقید کی شروعات خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی کتاب ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے ہوتی ہے، لیکن تنقیدی خیالات و افکار ہمیں اس سے پہلے بھی ہر فنکار و تخلیق کار کے یہاں جا بہ جا دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حالیؔ سے پہلے بھی وجہیؔ سے لیکر میرؔ و غالبؔ تک بے شمار شہ پارے تخلیق کئے گئے، اگر ان تمام کے تخلیقی عمل کے دوران تنقیدی شعور کارفرما نہ ہوا ہوتا تو یہ فن پارے شاہکار نہیں بن سکتے تھے۔ پروفیسر احتشام حسین کا خیال ہے کہ اردو ادب کی پیدائش ہی اس وقت ہوئی جب پہلے سے بہت ساری زبانوں کے ادب موجود تھے اور اچھے یا برے تنقیدی معیارات وجود میں آچکے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہر ادیب کے پاس اعلی یا ادنی تنقید کا کوئی نہ کوئی معیار ضرور ہوتا ہے جو تخلیقی عمل کے ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو اچھا تخلیقی عمل بھی وجود میں نہ آئے۔ گویا اچھی تخلیقی قوت، اچھی تنقیدی قوت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ ‘‘

(ادبی تنقید کے مسائل: مشمولہ روایت اور بغاوت۔ سید احتشام حسین، ص۔۱۴) 

جمعہ، 13 دسمبر، 2024

اردو میں ناول تنقید کے نظری مباحث

ڈاکٹر شاہد وصی 

تعیین قدر اور تفہیم ادب کیلئے فن پارے کو انتقادی نقطۂ نظر سے جانچنے اور پرکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر زندہ ادب میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو تخلیقی سرمایے اور فن پارے کو مسلمہ اصول کی روشنی میں جانچتے ہیں اور جہان ادب میں اس کی قدر و قیمت کی تعیین کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ تخلیق کار اور عام قاری کے درمیان رابطے کا بھی کام کرتے ہیں۔ ان کے ذمے فن پارے کے اجمال کی تفصیل، تلمیحات واستعارات کی تفسیر ، تخلیق کار کے ویژن اور مقصدیت کی تشریح بھی ہوتی ہے۔ مذکورہ پس منظر میں تنقید تخلیق کے بعد وقوع پذیر ہوتی ہے۔ لیکن تعیین قدر اور تفہیم ادب کے علاوہ تنقیدکی ایک اور شکل ہے جو ایک تخلیق کار کے اندر چھپی ہوتی ہے۔ اس کا عمل فن پارے کے وجود میں آنے سے پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے اور فن پارے کی پیشکش کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار اپنا راستہ طے کرتا رہتا ہے۔ 

اردو زبان میں صنف ناول نے اپنے پہلے نقش ڈپٹی نذیر احمد کی تصنیف ’’مراۃ العروس‘‘ ۱۸۶۹ء سے ۲۰۲۴ء تک تقریباً ڈیڑھ سو سال کا سفر پورا کرلیا ہے۔ اس ڈیڑھ صدی کے دوران سینکڑوں ناول لکھے گئے ، چند ایسے بھی منصہ شہود پر آئے جسے عالم گیر شہرت ملی، مگر جب ہم صنف ناول کے تنقیدی سرمایے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو اس باب میں قدرے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابتدا سے عہد حاضر تک ارو ناولوں پر جتنی بھی تنقید کی گئی اور جس طرح کی بھی تحریریں انتقادیات ناول کے باب میں لکھی گئیں اس کے واضح طور پر دو پہلو ہیں۔ ایک ناول کے نظری و فکری مباحث اور دوسرے انفرادی مطالعے۔ پھر نظری و فکری مباحث کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (۱) ناول نگاری کا فنی مطالعہ (۲) مختلف ناولوں کا موضوعاتی مطالعہ و تجزیہ۔ اسے اردو زبان کی بدقسمتی سے تعبیر کریں یا اس پر افسوس و ماتم کیا جائے کہ اردو میں فن ناول نگاری اور ناول پر فنی و فکری مباحث کی کچھ خاص، مستقل اور مستند کتاب تصنیف نہیں کی گئی۔ اس مضمون میں ہم نے اردو ناول تنقید کے فکری مباحث کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ 

اردو ناول کے فکر و فن کے حوالے سے اہم اور مستقل تصانیف میں پروفیسر سید محمد عقیل کی کتاب ’’جدید ناول کا فن‘‘ (۱۹۹۷) اور ڈاکٹر احسن فاروقی اور پروفیسر نور الحسن ہاشمی کی مشترکہ تصنیف ’’ناول کیا ہے؟‘‘ (۱۹۵۱) کو رکھا جاسکتا ہے، جو بہت حد تک فن ناول کی ضروریات کو پوری کرتی ہیں۔ ویسے تو اردو زبان میں ناول کے تعلق سے اظہار خیال اور تبصرے ناول کے آغاز سے ہی شروع ہوگئے تھے۔ ابتدا میں مولوی کریم الدینؔ، شادؔ عظیم آبادی، ڈپٹی نذیرؔ احمداور مرزا ہادی رسواؔ وغیرہ کی تعارفی و مقدماتی تحریروں میں ناول کے تعلق سے تنقیدی مباحث مل جاتے ہیں، وہیں عبدالحلیم شررؔ، پریم چندؔ، سجاد حیدر یلدرمؔ اور برج نرائن چکبستؔ کے مضامین بھی ناول تنقید کے اولین نقوش کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ناول کے آغاز سے لیکر تقریباً ۷۵؍ سالوں کے بڑے وقفے کے بعد علی عباس حسینیؔ پہلے ایسے ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اردو ناول کی تنقید پر ایک جامع، مفصل اور مستقل کتاب لکھتے ہیں۔ ان کی کتاب ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ (۱۹۴۴ء) جہاں اردو ناول نگاری کی تاریخی ارتقا سے بحث کرتی ہے، وہیں ناول نگاروں کے معائب و محاسن اور ناول کی خصوصیات و نقائص پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے۔ اردو کی شعری تنقید میں جو مقام مولوی حسین احمد آزادؔ کی ’’آب حیات‘‘ کو حاصل ہے، اردو ناول کی تنقیدی تاریخ میں وہی مقام و مرتبہ علی عباس حسینی کی تصنیف ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ کو حاصل ہے۔ یہ یکسانیت اس اعتبار سے ہے کہ اردو کی شعری تنقید میں ’’آب حیات‘‘ نے آنے والے ناقدین کیلئے راہیں ہموار کی، بعینہ اسی طرح ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ کی روشنی ہی میں بعد کے ناول ناقدین نے اپنی اپنی راہیں نکالی ہیں۔ فکشن تنقید کی تاریخ لکھتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم اس کتاب کے تعلق سے رقم طراز ہیں: 

منگل، 15 اکتوبر، 2024

بہار میں میر شناسی کی روایت

 ڈاکٹر شاہد وصی 

سرزمین بہار ہمیشہ سے اردو زبان وادب کے گیسو و کاکل کو سنوارتی آرہی ہے۔ اردو خواہ جمنا کنارے جمنی ہو یا راوی و ستلج کی موجوں سے اس نے اٹکھیلیاں کرنی شروع کی ہو، دریائے سندھ کے ساحلوں پراس نے بال و پر نکالے ہوں یا جنوب کی پہاڑیوں پر اس نے چوکڑیاں بھری ہوں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہار بھی روز اول سے ہی اردو ادب کی عظیم وراثت کی امین رہی ہے۔ یہاں نثر و نظم کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید اور ادب کی تمام جدید اصناف کی روایتیں بھی ہمیشہ زندہ و تابندہ رہی ہیں۔ جس زمانے میں الطاف حسین حالیؔ ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ لکھ کر تذکراتی و بیاضی تبصروں کو تنقید کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کررہے تھے اور اردو کے شعری سرمایے کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ اس کے اصول و ضوابط لکھ رہے تھے، اسی زمانے میں بہار میں بھی ’’کاشف الحقائق‘‘ کے ذریعہ امداد امام اثرؔ عالمی شعری پس منظر میں اردو شاعری کا مطالعہ کررہے تھے۔ جس عہد میں مولوی نذیر احمد اردو کی داستانوی روایت سے انحراف کرتے ہوئے نئی صنف ’’ناول‘‘ کی داغ بیل ڈال رہے تھے، ٹھیک اسی عہد میں یہاں شاد عظیم آبادی اور اصلاح النساء نے بھی اس صنف میں لائق تقلید نقش پا چھوڑے۔ اردو ادب کو تحقیق کا ’’معلم ثانی‘‘ اسی سرزمین نے عطا کیا اور اسی خاک سے تنقید کا وہ شعلہ جوالہ ابھرا جس نے ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ ڈال کر بہت سارے خود ساختہ بتوں کو تنکوں کی مانند اڑا دیا۔ اس ادبی وراثت کا ایک اہم حصہ میر شناسی کی روایت بھی ہے، جو اس خطے کے ادیبوں اور دانشوروں کے فکری شعور اور ذوقِ سخن کا مظہر ہے۔ 

میر تقی میرؔ کو آپ خدائے سخن مانیں یا نہ مانیں، اس کے سر پیغمبرانہ سخنوری کا تاج سجائیں یا نہ سجائیں، اس حقیقت سے مفر نہیں کہ میر کی شاعری ایک ایسی کائنات ہے جس میں جذبات، احساسات، غم اور خوشی کے بے شمار رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی غزلوں نے محبت کی لطافت، درد کی شدت، اور زندگی کی گہرائیوں کو بڑے دلکش اور سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد میر کی شاعری دو صدی گزرنے کے بعد آج بھی اتنی ہی پرکشش اور جاذب قلب و نظر ہے ۔ ’’نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب‘‘، ’’کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا‘‘اور ’’کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے‘‘ کے ذریعہ ذوقؔ، غالبؔ سے لیکر عہد حاضر کے کلیمؔ تک نے میر کے انداز اور سخنوری کے سامنے اپنی جبین عقیدت خم کی ہے۔ 

 میرؔ اردو شاعری کے ایسے لعل ہیں جن کی شعریات کی تفہیم و تعبیر ہر دور کے ناقدین نے کی ہے۔ عہد تذکرہ نگاری سے لیکر جدید تنقید نگاری تک سبھی ناقدین نے میرؔ کی شاعری کے مختلف جہات کو روشن کیا ہے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرنے کے ساتھ اس میں نئے جہانِ معانی کی تلاش کی ہے۔ میرؔ کو گزرے دو سو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا، لیکن ان کے کلام کی آفاقیت و ہمہ گیری آج بھی ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ میر شناسی کے حوالے سے جب ہم بہار کے تذکرہ نگاروں اور ناقدوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس ضمن میں پہلا نام میر غلام حسین شورشؔ عظیم آبادی (متوفی ۱۱۹۵ھ) کا آتا ہے۔ یہ میرؔ کے ہم عصر ہیں اور میرؔ کی حیات ہی میں انہوں نے شعرائے ریختہ کا تذکرہ ’’تذکرۂ شورش‘‘ کے نام سے لکھا تھا۔ یہ تذکرہ فارسی زبان میں ہے۔ اس تذکرے کی بابت پروفیسر اعجاز علی ارشد لکھتے ہیں: 

جمعہ، 9 دسمبر، 2022

چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہے

شاھد وصی
اس لامحدود کائناتی خلا کے درمیان ایک چھوٹے سے کرۂ ارضی پر ناممکن الوقوع نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ اگر عزمِ مصمم ہو، ارادے میں فولاد کی سی طاقت ہو، تو جوئے شیر کا حصول بھی آسان ہوجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب کرشمے نہیں ہوتے اور تصوراتی و منامی باتیں ردائے تعبیر نہیں پہن پاتیں، لیکن خاکم بدہن میرا یہ ماننا ہے کہ جب دل میں اصلاح کا جذبہ ہو، نیت میں خلوص ہو، ارادے پاک ہوں، ضمیر کی عدالت میں سرخروئی مل چکی ہو اور نفس امارہ کسی کونے کھدرے میں جا چھپا ہو، تو پھر اس نیلگوں آسمان کے نیچے ہر روز کرشمے ہوتے ہیں اور محال اپنے اندر کے عدم کو نکال کر امکان کے گھر جا پہنچا ہے۔ 
کچھ ایسا ہی کرشمہ اپنی پیاری بستی میں بھی ہوا۔ 
محبت، الفت، رافت، پیار، لگاؤ، بناؤ، بھائی چارگی، اور ہمدردی و جاں گساری کا ایسا منظر اپنی پوری زندگی میں اس حقیر و ناتواں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لوگ دشمنی، نفرت، عداوت، حسد، کینہ، اور اسی طرح کی تمام اندرونی آلائشوں کو درکنار کر ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔ 
یہ جشن کا سماں اور عید کا دن ہے ہر اس شخص کے لئے جو دل دردمند رکھتا ہے اور اس کا دل سوز نہاں سے جلتا کڑھتا رہتا ہے۔ 
مولانا ڈاکٹر شمیم سالک، مولانا نسیم سالک صاحبان کی عظمت کا پہلے بھی قائل تھا، لیکن اب کی بار دل میں ان کی عظمت و بڑائی مزید جاگزیں ہوگئی ہے۔ جناب نظر عالم صاحب، چچا سرفراز احمد،  جناب ظہیر، جناب عین الحق، جناب جاوید صاحب و دیگر تمام افراد ، اللہ آپ تمام کو جزائے خیر دے۔ واقعی آپ لوگوں نے ایسی ریت قائم کی ہے جو ہم چھوٹے کے لئے ہمیشہ مشعل راہ ہوا کرے گی۔ 
آپ لوگ عظیم ہیں، خدا سبھوں کو سلامت رکھے۔
اسی طرح کے واقعات و کردار  تاریخ کی سیاہ لکیروں میں صدیوں زندہ رہتے ہیں۔ یقین مانئے آپ لوگوں کا یہ اقدام تاریخ ساز ہے اور آپ لوگوں کا یہ درسِ محبت آئندہ کئی نسلوں کو یاد رہے گا۔ بڑی بوڑھی اپنے پوتے اور نواسیوں کو لوری کے ساتھ یہ مسرت انگیز واقعہ سنایا کریں گی۔ آج سے آپ لوگ افسانوی دنیا کے کردار ہوگئے ہیں۔ 
خدا سدا سلامت رکھے۔

بدھ، 14 ستمبر، 2022

جو ہوا، سو ہوا

شاہد وصی 
نامعلوم ماقبل تاریخ سے آج کی معلوم و مشاہداتی دنیا تک انسانی معاشرت میں آپسی ناچاقی، فساد وبگاڑ اور باہمی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے جتنی بھی مصالحانہ کوششیں ہوئی ہیں اور صلح وصفائی کی جتنی بھی نشستیں لگی ہیں، ان تمام میں ایک مشترک جملہ ’’مضی ما مضی‘‘ ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ مصالحت کی کلائمس میں ضرور سنائی دیتا ہے۔ دنیا انگنت کروٹیں لے چکی، صدیاں بیت گئیں ، ہزاروں سال کا عرصہ گزر گیا، اس دوران خدا معلوم کتنی بستیاں بسیں اور پیوند خاک ہوگئیں، نسل در نسل لوگ آتے گئے اور گور غریباں میں حشرات الارض کی خوراک بنے، آبادی وخرابی کا یہ لا متناہی سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ اس تمام عرصے میں ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ کی صدائے بازگشت بھی مصافحہ ومعانقہ کے ہم قدم چلی آرہی ہے۔ 
’’جو ہوا، سو ہوا ‘‘یہ جملہ دیکھنے میں جتنا مختصر اور چھوٹا ہے، حقیقت میں اس کی سحر انگیزی وثمر آفرینی احاطۂ تحریر سے پرے ہے۔ یکلخت دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں، آناً فاناً قلبی کدورتیں بیاباں کی راہ پکڑتی ہیں، ناگاہ دوریاں نزدیکی سے ہم آغوش ہوجاتی ہیں، اچانک منظر کا منظر بدلا بدلا سا نظر آتا ہے اور چشم زدن میں حقیقتاً ’’جو ہوا‘‘ قصہ پارینہ بن جاتا ہے اور تعلق و لگاؤ کی ایک نئی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ 
جتنے بھی سماجی مصلحین اور انسانی نفسیات کے شناسا گزرے ہیں، تمام نے اصلاح اور نفسیاتی گتھیوں کی گرہ کشائی کے لیے اسی جادوئی جملے کا سہارا لیا ہے اور یقین مانیے اسی ایک جملے سے سماج و معاشرے کو لا شمار خوشیاں ملی ہیں۔ 
آپ نے شیخ ظہور الدین حاتمؔ کا نام سنا ہی ہوگا۔ 
نہیں
کیا کہتے ہو میاں؟
ارے بھائی! وہی دلی والےسپاہ پیشہ، مرزا محمد رفیع سودا کے استاد۔ ان کا ایک شعر دیکھئے۔ 
یوں نہ ہو، یوں ہو، یوں ہوا سو کیوں 
کیا ہے یہ گفتگو، ہوا سو ہوا 
اور ایک شعر موسیقار نوشاد کی زبانی بھی سنئے۔
چھوڑو جانے دو جو ہوا سو ہوا 
آج کیوں کل کی بات یاد کرو 
یہی کل کو بھول کر اور ہوچکے پر چادر فراموشی ڈال کر نئے آج کی شروعات ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ کا تتمہ کہلاتا ہے۔ لیکن یہاں تھوڑا ٹھہر کر، قدرے توقف سے خیال وفکر کے گھوڑے اس طرف بھی دوڑانے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر مسئلہ میں ’’جو ہوا سوہوا‘‘ کا فارمولہ کارآمد ہے؟ کیا ہر طرح کے فساد و بگاڑ کیلئے یہ نسخہ یکساں طور سے نسخۂ کیمیا کا درجہ رکھتا ہے؟ اور اسی ایک دوا سے ہر مرض کا تیر بہدف علاج کس حد تک درست ہے؟ 

جب ہم سماج میں رونما ہونے والی متنوع شرانگیزیوں اور قسم قسم کی فتنہ سامانیوں کو دیکھتے ہیں اور فساد و بگاڑ کی مختلف شکلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر ان جرائم و واردات کو سماج، نفسیات اور معاش کے مختلف پیمانے پر پرکھتے ہیں تو ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ ہر فساد کے بعد 'جو ’’ہوا سو ہوا‘‘ کا فارمولہ قطعی درست اور کارگر نہیں ہے۔ بلکہ بعض واقعات میں اس فارمولے کے بدترین اور بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ ظلم وستم اور جبر و زیادتی اگر پدرم سلطان بود والی نفسیات کی پیداوار ہے اور اس کے پس پشت اگر کلیم عاجز کی زبانی ’’وہ صنم بگڑ کے مجھ سے مرا کیا بگاڑ لے گا‘‘ والی ذہنیت کارفرما ہوتی ہے ، تو ان معاملات جنگ وجدل میں مصالحت کے دوران ’’جو ہوا سو ہوا‘‘والے فارمولے کو بروکار لانے سے ہمیشہ ظالموں اور زبردستوں کو یک گونہ ایڈوانٹیج ہی ملتا ہے۔ اور بے چارہ ستم رسیدہ زیر دست یا تو اگلی زیادتی کے لیے تیار رہتا ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی زبان صدائے زیر لبی کی بھی ہمت نہیں جٹا پاتی ہے۔ اس طرح کے فساد وبگاڑ اور ظلم وزیادتی میں ’’جو ہوا سو ہوا‘‘ سے پہلے ’’جو ہوا وہ کیوں ہوا‘‘ اور ’’جو ہوا پھر نہ ہو‘‘ جیسی گتھیوں کو سلجھانا بہت ضروری ہے۔ ان پیچ وخم کی گرہ کشائی کے بغیر نہ تو ظلم پر لمبے عرصے کے لیے قد غن لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی زیر دستوں کی آہ وکسک زیر لب سے باہری دنیا تک پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا جو ہو سوا کی اپنی دل آویزی و کشش کے باوجود کیوں ہوا؟ اور پھر نہ ہو جیسے نفسیاتی پہلوؤں پر غورکرنے سےہی معاشرے میں تادیر امن قائم کیا جاسکتا ہے اور کامل انصاف کے ساتھ ہی مصالحت کی کوششیں حقیقی معنی میں بار آور ہوسکتی ہیں۔ 



بدھ، 15 جون، 2022

تبصرہ: اردو جرنل 12

نام مجلہ: اردو جرنل

صفحات: ۳۵۳، سنہ اشاعت: ۲۰۲۱ء

قیمت: ۳۰۰؍ روپئے 

مدیر: ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی 

ناشر: شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ 

مبصر: شاہد وصی، ، رابطہ: 9006331029

آج کے کتب بیزار معاشرے ،لذت ورق گردانی سےناآشنا سماج اور ان لوگوں کے درمیان جن کی انگلیاں صفحۂ قرطاس کے بجائے موبائل کی اسکرینوں پر زیادہ دوڑتی ہیں ، کسی رسالے کا تسلسل کے ساتھ شائع ہونا اور ساتھ ہی ساتھ ادبی معیار اور مندرجاتی انفرادیت کو بھی برقرار رکھنا کار فرہاد سے کم نہیں۔ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے سالانہ اکیڈمک ریسرچ جرنل ’’اردو جرنل‘‘ کا شمار بھی انہی رسائل میں ہوتا ہے۔ ۲۰۱۰ء سے پابندی کے ساتھ یہ رسالہ شائع ہورہا ہے۔ اس رسالے کی انفرادیت یوں بھی ہے کہ اس کا ہر شمارہ کسی نہ کسی خاص موضوع یا شخصیت پر مشتمل رہا ہے۔ ماضی میں ’’تحقیق وتنقید‘‘، ’’ہم عصر اردو افسانہ‘‘، ’’ہم عصر اردو ناول‘‘ ،’’ہم عصر اردو شاعری‘‘ اور ’’اردو زبان وادب کے فروغ میں پٹنہ یونیورسٹی کی خدمات‘‘ پر نمبر بھی شائع ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ بعض دیگر شمارے میں فیض احمد فیض، سہیل عظیم آبادی، اسرار الحق مجاز، سعادت حسن منٹو وغیرہ پر خصوصے گوشے بھی شامل رہے ہیں۔ مدیر مجلہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کے بقول ۲۰۲۱ء چونکہ اکبر الہ آبادی کی وفات صدی اور ساحر لدھیانوی کی پیدائش صدی ہے، اس لئے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے حالیہ بارہواں شمارہ بھی حسب روایت اردو کے دو بڑے شعرا اکبر الہ آبادی اور ساحر لدھیانوی کے گوشوں پر محیط ہے۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی معاصر فکشن ناقدین میں اعتبار کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے تنقیدی خیالات اور فکری آرافن پارے کی تفہیم میں حد درجہ معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسالے میں بھرتی کے مضامین اور برائے ضخامت والی تحریریں راہ نہیں پاتیں، بلکہ بڑی ژرف نگاہی اور حسن انتخاب کے ساتھ قابل اشاعت مضامین ہی شامل اشاعت ہوتے ہیں۔ 

زیر تبصرہ بارہویں شمارے کا پہلا حصہ اکبر الہ آبادی کے فکر وفن پر مشتمل ہے۔ اس میں بوستان اکبر کے تحت فاضل مدیر نے پروفیسر محمد حسن، پروفیسر قدوس جاوید، پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر ابوبکر عباد، ڈاکٹر آفتاب احمد منیری، مولانا سید شاہ محمد ریان، ڈاکٹر شیخ فاروق باشا، ڈاکٹر محمد شارب وغیرہ مشاہیرادب کی تحریروں کو جگہ دی گئی ہے۔ وہیں گلہائے نو کے ذیلی عنوان کے ساتھ نو واردان بساط ادب کی تحریریں شامل ہیں۔ پروفیسر قدوس جاوید نے اپنے مضمون’’افکار اکبر الہ آبادی کی عصری معنویت‘‘ میں عصری پس منظر میں کلام اکبر کی نئی تفہیم وتعبیر کی ہے۔ اس مضمون میں ماضی پرستی اور مغرب بیزاری کے تعلق سے اکبر اور اقبال کے خیالات کو تقابلی انداز میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکبر الہ آبادی کے تعلق سے عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ ان کے نام کو قہقہوں نے اچھالا اور طنز وظرافت کے ہم دوش ان کی شہرت پروان چڑھی ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ان ہی عناصر کی وجہ سے کلام اکبر اور افکار اکبر حیات و بقا کی ایک ڈیرھ صدی گزار چکا ہے؟ پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے مضمون ’’اکبر الہ آبادی کی شعری روایت اور اکبر کی غزلیہ شاعری کے چند پہلو‘‘ میں اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے آفاقیت وحیات کی نئی کڑی تلاش کی ہے اور اکبر کی غزلیہ اور صوفیانہ شاعری پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ مضمون کے آخر میں وہ لکھتے ہیں: ’’یہ الگ بات ہے کہ ان کی طنزیہ ومزاحیہ نظم نگاری کا جادو اردو شاعری پر کل بھی چڑھا ہوا تھا اور آج بھی۔ اردو دنیا کی اس سرمایۂ غزل کی طرف توجہ نہیں گئی یا کم گئی ورنہ اکبر کی اس رنگ کی شاعری بلاشبہ اردو کی اس صوفیانہ شاعری سے آنکھیں تو ملاتی ہی ہے جہاں درد، میر، غالب اور آتش جیسے جید شعرا نظرآتے ہیں‘‘۔ (ص۳۹) پروفیسر ابوبکر عباد کا مضمون ’’اکبر الہ آبادی کی قرأت نو‘‘ فکری لحاظ سے اکبر کے تصورات کو سمجھنے اور فنی اعتبار سے ان کی شاعری کے پوشیدہ گوشوں کو دریافت کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بشمول مذکورہ مضامین اس حصے میں کل اٹھارہ (۱۸) مضامین شامل ہیں جس میں اکبر الہ آبادی کے فکرو فن کو نئے انداز سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

مجلے کا دوسرا حصہ جوان دلوں کے شاعر اور رومان وانقلاب کے ترجمان ساحر لدھیانوی کے نام ہےجس میں کل سولہ (۱۶) مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ گلشن ساحر کے تحت جہاں پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر اسلم جمشید پوری، ڈاکٹر عبد الحنان سبحانی، ڈاکٹر رشید جہاں انور، ڈاکٹر سورج دیو سنگھ جیسے معتبر وسینئر ناقدین ادب کی تحریریں شامل اشاعت ہیں وہیں چمن تازہ کے عنوان کے ذیل میں ڈاکٹر شیخ عمران، ڈاکٹر عبد الباسط حمیدی، ڈاکٹر محمد سہیل انور اور ڈاکٹر نور نبی انصاری جیسے نئے لکھاریوں کے مضامین کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ساحر لدھیانوی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے بھی رہا ہےاور ترقی پسند شاعری کے بارے میں عمومی تصور یہ رہا ہے کہ یہ صرف نعرہ بازی کی شاعری ہے، اس میں خطابت اور مقصدیت کا غلبہ ہوتا ہے۔ ساحر کے تعلق سے بھی یہ غلط فہمی عام ہے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے مضمون ’’امید ونشاط کا شاعر: ساحر لدھیانوی‘‘ میں اسی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہیں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے ساحر کی دو نظموں ’’اے شریف انسانو!‘‘ اور ’’مگر ظلم کے خلاف‘‘ کا جائزہ لیا ہے اور عصری پس منظر میں اس کی تفہیم نو کی ہے۔ ڈاکٹر شہناز بانو نے اپنے طویل مضمون ’’ساحر: فلمی نغموں کا سوداگر‘‘ میں ساحر کے اکثر بیشتر فلمی نغموں کی روداد قلمبند کردی ہے۔ مجموعی اعتبار سے مجلہ کا یہ حصہ بھی ساحر کے فکر وفن اور ان کی شاعری کے مختلف جہات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ مدیر کا حسن انتخاب ہی ہے کہ اکبر وساحر کا یہ دونوں گوشہ ظاہری اعتبار سے گوشہ ضرور نظر آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے کسی معتبر نمبر سے کم نہیں ہے۔ 

مجلے کے تیسرے حصے میں گلستان نقد ونظر کے تحت مختلف موضوعات پر تحقیقی وتنقیدی مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ اس حصہ میں کل تیرہ (۱۳) مضامین شامل ہیں۔ پروفیسر شہاب الدین ثاقب کا مضمون ’’بہار میں اردو تحقیق: آغاز تا امروز‘‘ نہایت وقیع اور محققانہ مضمون ہے۔ اس مضمون میں بہار میں اردو تحقیق کی مکمل روایت کا قدرے اجمالا قدرے تفصیلا تذکرہ موجود ہے۔ وہیں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا مضمون ’’نظیر اکبر آبادی اور ڈاکٹر فیلن‘‘ بھی ایک تحقیقی مضمون ہے۔ جس میں مضمون نگار نے ایس ڈبلیو فیلن کی تالیف کردہ تین لغات کا جائزہ لیا جس کے اندر ڈاکٹر فیلن نے تقریباً دو ہزار الفاظ، محاورات، ضرب الامثال، مرکبات اور اصطلاحات پیشہ وراں کو نظیر کی سند کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ وہیں محمد عارف حسین کا مضمون ’’دبیر کا غیر منقوط کلام‘‘ اپنی نوعیت کا نیا اور منفرد مضمون ہے۔ 

یہ رسالہ اپنے اندر افادی پہلو کو سمیٹے ہوا ہے۔ مجلہ کے کل صفحات ۳۵۲؍ ہیں۔ دیدہ زیب سرورق ، عمدہ طباعت کے ساتھ اس کی قیمت ۳۰۰؍ روپئے رکھی گئی ہے۔ 

(یہ تبصرہ ’’اردو دنیا‘‘ جون 2022 کے شمارے میں شائع ہوا ہے) 

پیر، 13 جولائی، 2020

آیا صوفیا: کھل گئے تیرے در ایک مدت کے بعد

اپنی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط ۲۲
محمد احتشام الحق قاسمی، رامپور سمستی پور 
12جولائی 2020

آیا صوفیا سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ فتح ہونے سے پہلے مشرقی عیسائیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ عیسائی دنیا مذہبی اعتبار سے دو بڑے فرقے میں منقسم تھی۔ ایک فرقہ کیتھولک چرچ سے وابستہ ہوکر اپنے کو کیتھولک عیسائی کہتا تھا اور دوسرا آرتھوڈوکس عیسائی کہلاتا تھا ۔ مغربی دنیا کے عیسائیوں کا مرکز روم کا شہر ویٹیکن سیٹی تھا، انکا مذہبی پیشوا پوپ کہلاتاہے اور مشرقی دنیا کے عیسائیوں کا مرکز قسطنطنیہ تھا اور اس کا مذہبی پیشوا بطریق  patriarch کہلاتا تھا ۔ ان دونوں فرقوں کے درمیان سیاسی اور مذہبی کشمکش برابر جاری رہتی تھی ۔
آیا صوفیا یہ ارتھوڈوکس عیسائیوں کا عالمی مرکز تھا اور ساتھ میں عسکری مرکز بھی ، چونکہ اس وقت بادشاہوں پر کلیسا کی حکومت تھی اور کلیسا کی سربراہی میں جنگ لڑی جاتی تھی ۔ آیا صوفیا کی اہمیت اس لیے بھی عیسائیوں کے نزدیک زیادہ تھی کہ وہ روم کے کیتھولک چرچ سے زیادہ قدیم تھا ۔ 

آیا صوفیا کی تعمیر 
آیا صوفیا کی بنیاد روم کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے ڈالی تھی۔ اسی بادشاہ کے نام پر اس شہر کا پرانا نام بازنطینہ سے بدل کر قسطنطنیہ رکھا گیا۔  قسطنطین نے پہلی مرتبہ 360عیسوی میں ایک لکڑی کا کلیسا تعمیر کیا تھا ، چھٹی صدی میں جلنے کے بعد قیصر جسٹینین اول نے 532عیسوی میں اسے پختہ تعمیر کروایا ۔ دس ہزار مزدوروں نے پانچ سال دس ماہ کے عرصے میں آیا صوفیا کی تعمیر مکمل کی، جب تعمیر مکمل ہونے کے بعد جسٹینین اس کلیسا میں داخل ہوا ، تو اس نے انتہائی متکبرانہ اور گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اے سلمان میں تم سے سبقت کرگیا ۔ نعوذ باللہ من ذالک 
مراد اس کا یہ تھا  میں نے آپ سے بڑی عبادت گاہ بنا ڈالی میری تعمیر کے آگے آپ کے بیت المقدس کی تعمیر ہیچ ہے۔ 
آیا صوفیا پر آئے مختلف ادوار 
آیا صوفیا پر مختلف ادوار آئے  جن کو ہم سات مرحلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں 
1۔  535سے 1054تک یہ بازنطینی مسیحی کیتھڈرل کے طور پر مشہور رہا ۔ 
2 ۔ 1054سے 1204تک یہ یونانی راسخ الاعتقاد کلیسا کیتھڈرل کے طور سے مشہور رہا ۔ 
3۔  1204سے 1261تک اسے رومی کیتھولک کیتھڈرل کے طور پر جانا گیا ۔ 
4۔  1261سے 1453تک یونانی راسخ الاعتقاد کلیسا کے طور پر اسکی شہرت رہی ۔ 
5۔  1453سے 1935تک عثمانی مسجد یا صوفیا کبیر جامع شریفی کے نام سے اسکی شہرت رہی ۔ 
6۔  1935سے 10جولائی 2020تک میوزیم کے روپ میں رہی۔  
7۔  اب ترکی کی سپریم کورٹ نے اسے اسکی اصل حیثیت میں لوٹانے کا حکم دیدیا ۔ 
تقریبا ً پچاسی سال بعد آیا صوفیا سجدوں سے آباد ہورہی ہے ، خداتعالیٰ قیامت تک اسے آباد رکھے ۔ 

کیا سلطان محمد فاتح نے اسے خرید کر وقف کیا تھا ؟ 

اتوار، 28 جون، 2020

"ارطغرل غازی"


کالم نگار:
جاوید چوہدری

دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں جینئس‘ ایوریج اور بلو ایوریج‘ ہماری دنیا میں بلو ایوریج (معمولی لوگوں) اور ایوریج (سطحی لوگوں) کی کوئی کہانی نہیں ہوتی‘ یہ لوگ آتے ہیں‘ زندگی گزارتے ہیں اور اکثر اوقات اپنے جیسے بچے پیدا کر کے چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لہٰذا ان کی زندگی پر کوئی کہانی‘ کوئی کالم اور کوئی کتاب لکھی جاتی ہے اور نہ کوئی ڈرامہ یا فلم بنائی جاتی ہے۔
یہ دنیا میں آتے ہیں تو کسی کو پتا نہیں چلتا‘ یہ چلے جاتے ہیں تو بھی کسی کو علم نہیں ہوتاجب کہ جینئس لوگوں کی کہانیاں بھی لکھی جاتی ہیں اور ان پر فلمیں بھی بنتی ہیں اور ان کے ڈرامے بھی بنائے جاتے ہیں‘ میں اپنے سیشنز میں
اکثر عرض کرتا ہوں آپ اگر تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا کام کر جائیں جس پر آنے والے لوگ کتابیں لکھیں اور ڈرامے بنائیں اور آپ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر جینئس لوگوں کے بارے میں کتابیں لکھیں آپ بھی ان کے ساتھ زندہ رہ جائیں گے ورنہ یہ جیون سفر رائیگاں کے سوا کچھ نہیں‘ یہ ایک بات تھی‘ آپ اب دوسری بات بھی ملاحظہ کیجیے‘ دنیا کے تما ایکسٹرا آرڈنری لوگ ایک جیسی زندگی گزارتے ہیں‘ یہ آج کے دور میں ہوں یا ماضی میں‘ مصیبتیں‘ مشکلیں‘ دھوکے اور بے وفائیاں ان کا مقدر ہوتی ہیں‘ یہ بے چارے پوری زندگی گرم توے پر تیل کی بوند کی طرح اچھلتے کودتے اور سی سی کرتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن اچانک تحلیل ہو جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے توے پر اپنا نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔
ارطغرل ڈرامہ سیریز کا ہیرو بھی ایک ایسا ہی ایکسٹرا آرڈنری‘ ایک جینئس انسان تھا‘ یہ چھوٹے سے خانہ بدوش قبیلے میں پیدا ہوا لیکن قدرت نے اسے ایک لازوال سپہ سالار‘ ایک بڑی ریاست کا معمار اور ایک عالمی سیاست دان بنایا تھا‘ وہ قبیلے سے اٹھ کر دنیا کو دیکھ رہا تھا اور اس کا خیال تھا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک بڑی اسلامی ریاست بنا سکتا ہے۔
وہ اپنے لوگوں کا مقدر بدل سکتا ہے لیکن پھر اس کے ساتھ وہی ہوا جو دنیا میں سپرجینئس‘ جینئس یا ایکسٹرا آرڈنری لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں ارطغرل ڈرامہ سیریز بنیادی طور پر غیر معمولی لوگوں کی داستان حیات ہے اور یہ داستان ثابت کرتی ہے اگر عقاب پنجرے میں پیدا ہو جائے یا بلی کے بچوں کے درمیان شیر کا بچہ آ جائے تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

اسے منزل تک پہنچنے کے لیے کس کس مرحلے سے گزرنا اور آگ کے کس کس دریا کو تیر کر پار کرنا پڑتا ہے چناں چہ دریلیش ارطغرل صرف ڈرامہ سیریز نہیں یہ کام یابی کی ایک بے مثال داستان‘ ایک شان دار سکسیس سٹوری ہے‘ یہ غیر معمولی لوگوں کا نوحہ بھی ہے لہٰذا آپ اگر زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر میں آپ کو مشورہ دوں گا آپ دریلیش ارطغرل ضرور دیکھیں‘ نوٹس لیں اور ارطغرل کی طرح مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا سیکھیں۔
آپ بالآخر کام یاب ہو جائیں گے۔ارطغرل کی ڈرامہ سیریز میں اول روز سے خواری شروع ہوتی ہے‘ اس کے اپنے اور پرائے سب اس کو دکھ دیتے ہیں‘ یہ گھر سے بھی مار کھاتا ہے اور باہر سے بھی‘ یہ بار بار قبیلے سے بے دخل کر دیا جاتا ہے‘ یہ درجنوں بار قید ہوتا ہے‘ اس کا والد‘ اس کی والدہ اور بھائی بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

منگل، 23 جون، 2020

اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

واٹس ایپ کے ایک گروپ میں ہونے والے بحث و مباحثہ کے دوران
اختلاف ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ نیک نیتی، صداقت اور سنجیدگی چاہتا ہے۔ اختلاف رائے ہی سے سماج کی رنگینیاں ہیں، یک رنگی طبائع انسانی کے خلاف ہے۔ اگر سماج وطبائع اور جماعت میں رنگینیاں اور بوقلمونی نہ ہوں تو وہ سماج تعطل وجمود کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوؔق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
یہی وجہ ہے کہ فطرت نے از خود انسانی سرشت میں اختلاف کو رکھ دیا ہےاور دین فطرت اسلام نے اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشاورت کا عظیم ونایاب فارمولہ پیش کیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اختلاف رائے اور نقد وجرح کے بہت سارے شرائط بھی ہیں اور تقاضے بھی۔ تنقید حقیقت پسندی اور غیر جانبداری کا تقاضا کرتی ہے۔ تنقید اسی وقت تک محمود ہے جب تک اس میں ان شرائط کو ملحوظ نہ رکھا گیا ہو۔ اگر تنقید تنقیص وتعییب کا پیراہن اختیار کرلے تو یہ ایک غیر محمود عمل ہے اور ناپختہ وغیرسنجیدہ ذہن کی پیداوار۔ یہی حدود وقیوم تحمید وتعریف کے ساتھ بھی لگائے گئے ہیں۔
بارہا گروپ میں بعض احباب نے ان امور کی نشاندہی کرائی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پر رہا کہ گروپ کے چند رفقا وقفے وقفے سے ان اصول سے صرف نظر کرتے ہوئے تنقیص کو تنقید کا لبادہ اوڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ امید ہے احباب آئندہ ان کلیات کا خیال رکھیں گے۔

مشھود وصی ابن شاہد وصی ابن وصی احمد ابن اسرائیل ابن حنیف

تمام تعریفیں اسی داتائے یکتا اور دانائے اسرار و رموز کے لئے جس کی مشیت کے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، جو داتاوں میں داتا اور داناوں میں سب سے دانا ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں، ایک بحر ناپیدا کنار ہے، جو نوازتا ہے اور بے حد و حساب نوازتا ہے بلکہ چھپر پھاڑ کے نوازتا ہے،
اسی کی مشیت ہوئی اور میرے گھر آنگن اور خانوادئے وصی میں 4 اگست 2019 مطابق 2ذی الحجہ 1440ھ کو ایک ننھے سے وجود نے آنکھیں کھولی-

پڑھیئے ایک مزاحیہ وطنزیہ تحریر

اختلاف کیا ہے اور اس کے لئے کون سے اصول ضروری ہیں: ایک چھوٹی تحریر

سو اے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات، اے ہواوں میں محو پرواز چرند و پرند سنو اور کان کھول کے سنو اور سن کر ساری کی ساری کائنات میں ، تمام سیاروں و ستاروں کے روبرو، ہر طرح کی کہکشاوں کے اندر اور اس سے بھی پرے ، دور بہت دور ، ہر اس جگہ جہاں کوئی نفس و ہستی موجود ہے یہ خبر عام کردو کہ آج سے اس ننھے وجود کو جو بطن زوجہ شاہد سے بہ مشیت ایزدی ہماری دنیا میں آیا ہے مشہود وصی کے نام سے پکارا جائے
اور
اے وہ کہ جو یہ اعلان پڑھ رہا ہے رب کائنات کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور بھیگی آنکھوں و تڑپتے دل سے دعا گو ہوں کہ مشھود وصی کا اقبال بلند ہو، خدا دنیا جہان کی تمام نیک نامیاں اس کی جھولی میں ڈال دے، اس کے حصے میں صداقت، دیانت، لیاقت، حلم و بردباری اور اطاعت و وفاشعاری آئے، اس کا ہر قدم اعلا کلمہ اللہ کے لئے اٹھے، اس کی پوری تگ و دو دین کی سربلندی میں صرف ہو اور اس کی مکمل زندگی کا مقصد دین الہی کی سرفرازی ہو

کروونا سے احتیاط اور بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر


پیاری اریبہ 
تاریخ پیدائش: 15 جون 2016
سدا ہنستی مسکراتی رہو 
تمہارے سامنے عید کی کیا حیثیت، تمہاری ایک کلکاری پر ہزاروں عید قربان، تم ہو تو بہار کی یہ رعنائیاں کیا، تمہارے وجود سے ہی زندگی کی یہ رنگینیاں ہیں، اس حیات مستعار میں تم ہی وہ خدائی عطیہ ہو جس کا کوئی بدل نہیں، تمہیں ابھی اس کی خبر نہیں کہ تمہاری ایک مسکراہٹ سے ہمارا وجود لطف و کیف کی نہ جانے کیسی کیسی بلندیاں طے کر لیتا ہے اور تمہارے ننھے ننھے ہاتھوں کے لمس سے کیسی بہشتی مسرت ملتی ہے، خدا تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے، تمہیں دنیا جہاں اور آخرت کی وہ وہ نعمتیں ملے جس کا تمہارا باپ تصور بھی نہیں کرسکتا
تمہارا خوش نصیب باپ

اتوار، 21 جون، 2020

پرواسی بہاری مزدور 2000 روپئے حاصل کریں

حکومت بہار نے بہار سے باہر پھنسے بہاریوں کے لئے کورونائی عہد کووڈ 19 کے دور میں 1000 روپئے کی راحت دینے کا اعلان کیا تھا۔ بہت ساروں کو راحتی پیکیج کی یہ رقم مل بھی گئی ہے۔ جن جن لوگوں نے اپلائی کیا تھا تقریباً سبھوں کے اکاونٹ میں یہ پیسہ پہنچ چکا ہے۔ 

اسی طرح ایک جون سے پہلے بہار کے جو باشندے کورنٹائن سینٹر میں رکے تھے، حکومت بہار نے ان لوگوں کے لئے بھی الگ سے 1000 روپئے دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے لئے کورنٹائن سینٹر پر بعض جگہ نقد کی شکل میں کچھ لوگوں کو یہ راحتی امداد دی گئی وہیں اکثر لوگوں سے ان کا بینک اکاؤنٹ اور آدھار نمبر لے لیا گیا تھا۔ 

دونوں صورتوں میں جن لوگوں کو یہ امداد اور روپئے نہیں ملا ہے وہ ابھی بھی لے سکتے ہیں۔ 

طریقہ بہت ہی آسان ہے۔ 

اس کے لئے حکومت بہار کی دیزاسٹرمیجنمنٹ محکمہ کے ویب سائٹ پر جاکر اپنے آدھار اور اکاؤنٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت کی ہے۔ 

اس طرح کریں اپلائی 
سب سے پہلے آپ نیچے کی لنک پر کلک کریں

جانئے امیونٹی کیا ہے

آج کل کا کثیر الاستعمال لفظ ’’امیونٹی، جانئے کیا ہے یہ؟

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے دنیا بھر میں پھیل جانے کے بعد آپ نے بہت سے نئے الفاظ سنے ہوں گے جن کے بارے میں آپ کو وقتاً وقتاً بتایا جاتا رہا ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ جو لفظ استعمال ہوا، وہ ’’امیونٹی‘‘ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں کرلی جاتی تب تک انسان کی امیونٹی ہی اس کی حفاظت کرے گی۔ جس شخص کی امیونٹی جتنی مضبوط ہوگی، وہ اتنی تیزی سے اس وائرس سے لڑے گا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے دنیا بھر میں پھیل جانے کے بعد آپ نے بہت سے نئے الفاظ سنے ہوں گے جن کے بارے میں آپ کو وقتاً وقتاً بتایا جاتا رہا ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ جو لفظ استعمال ہوا، وہ ’’امیونٹی‘‘ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے جب تک کوئی ویکسین تیار نہیں کرلی جاتی تب تک انسان کی امیونٹی ہی اس کی حفاظت کرے گی۔ جس شخص کی امیونٹی جتنی مضبوط ہوگی، وہ اتنی تیزی سے اس وائرس سے لڑے گا (اگر وہ اس وائرس کا شکار ہوجاتا ہے تو)۔ اس لئے اس دوران ایسے کئی مضامین بھی شائع ہوئے جن میں بتایا گیا تھا کہ انسان کو اپنی امیونٹی کیسے بڑھانی چاہئے۔
 سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امیونٹی کیا ہے؟ اور ایک طالب علم کی زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ طلبہ کی امیونٹی مستحکم کیوں ہونی چاہئے؟

’’امیونٹی‘‘ کیا ہے؟
 امیونٹی کو ’’مناعت‘‘ کہتے ہیں ۔ دراصل یہ جاندار اجسام میں پائی جانے والی ایک قوت مدافعت ہوتی ہے جو امراض کے خلاف بچاؤ یا دفاع کا کام انجام دیتی ہے، اسی وجہ سے اس کیلئے بعض اوقات قوت مدافعت کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ واضح ہوکہ طب و حکمت میں امیونٹی کیلئے مناعت کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ مناعت سے مراد جانداروں کے جسم میں پایا جانے والا ایک ایسا نظام جو امراض کے خلاف جاندار کے جسم میں مدافعت پیدا کرے یا بیکٹیریا اور وائرس کو ان کے جسم میں داخلے کی مناعت کرے۔ 

بدھ، 1 جون، 2016

ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ شکرپور کی پہلی میٹنگ اختتام پذیر

نظیم ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ شکرپور کی پہلی میٹنگ بحسن وخوبی اختتام پذیر 
درجنوں فضلائے شکرپور نے باہم متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا اور چار نکاتی لائحہ عمل مرتب کیا 


دربهنگہ ضلع کے شکرپور بهروارہ میں واقع دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ ریاست بہار کے ممتاز مدارس میں شمار کیا جاتا ہے، تعلیمی میدان میں اس کی خدمات بیش بہا اور قابل تعریف ہیں، جس کا اندازہ ملک وبیرون ملک پهیلے اس کے فضلا کے روشن کارناموں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے - گزشتہ شب  مدرسہ طیبہ قاسم العلوم بردی پور دربهنگہ میں مدرسہ اسلامیہ کے درجنوں قدیم وجدید فضلا کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی - میٹنگ کا افتتاح قاری شاہد ضیا کے تلاوت کلام پاک سے ہوا، وہیں مولانا خورشید بردی پوری و مولانا احمد حسین قاسمی بردی پوری نے بارگاہ رسالت مآب میں نذرانہ عقیدت پیش کیا- میٹنگ کی صدارت مولانا ظفر امام نستوی قاسمی نے کی- مولانا احمد حسین قاسمی نے میٹنگ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میٹنگ کا مقصد ایک تنظیم کی بنیاد رکهنی ہے، ایک جماعت بنانی ہے اور ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جس سے سماج کے اندر تعلیمی، معاشرتی اور رفاہی میدان میں ایک انقلاب لایا جاسکے، اس کے تئیں لوگوں میں بیداری لائی جاسکے- مولانا خالد ضیا صدیقی نے تنظیم کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک کام انفرادی طور پر یا کوئی حرکت فرد واحد سے اتنا متاثر نہیں کرتی اور اس کا نتیجہ اتنا بارآور نہیں ہوتا جتنا کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اجتماعی کام سے ہوتا ہے - وہیں مولانا دبیر قاسمی نے تنظیم و جماعت کی اہمیت و افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی -
میٹنگ میں متعدد امور پر غور وفکر کیا گیا اور باتفاق مندرجہ ذیل چارنکاتی لائحہ عمل مرتب کیا گیا -
1__ مدرسہ اسلامیہ کی ہمہ جہت خدمت اور تعاون 
2__ مدرسہ کے فضلا سے باہمی ربط اور ان کا حسب حال تعاون 
3_ باہم علمی و تحقیقی کاموں کی تقسیم وتحریک 
4_ تنظیم کے پلیٹ فارم سے مختلف علاقوں میں دینی ورفاہی خدمات اور معاشرے میں تعلیم کا فروغ 
میٹنگ کے شرکا میں مولانا ظفر امام، مولانا خالد ضیا ندوی، مولانا شاہد وصی، خورشید احمد، مولانا محمود الحسن، مولانا شاہد ضیا، مولانا سرفراز احمد، مولانا شافع عارفی، مولانا دبیر احمد، مولانا نعمان احمد، مولانا احمد حسین، مولانا عارف اقبال، مولانا سفیان احمد، مولانا عمر عالم، مولانا منت اللہ، مولانا مبین احمد سعیدی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں -
میٹنگ میں شریک احباب مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے 

میٹنگ میں شریک احباب مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے 























میٹنگ کی جذباتی رپورٹ ::------------ جو مولانا خالد ضیا الندوی کے رشحات قلم سے نکلی۔۔ آپ بھی ملاحظہ کریں 

   دل ونظر کی جان تھا وہ دور جو گزر گیا 

   احباب گرامی قدر!
     

اتوار، 13 دسمبر، 2015

فیس بک ٹیگیا اور واٹس ایپ گروپیا

آپ نے تکلیف دہی اور ایذا رسانی کے ہزارہا واقعات سنے ہوں گے، سینکڑوں حادثات اور واقعات سے آپ بذات خود نبرد آزما ہوں گے۔ آج کی اس رنگ برنگی دنیا اور لمحہ لمحہ بدلتی اشیاؤں میں ایذا رسانی، سمع خراشی اور مکدرات پیدا کرنے والے آلات بھی اور حرکتیں بھی طرح طرح کی شکلیں اختیار کرتی جارہی ہیں۔
فی الوقت فیس بک ٹیگیا اور واٹس ایپ گروپیا  دہشت اور ایذا رسانی کا سب سے موثر اور زود اثر ہتھیار ہے۔اگر آپ کسی کو حد درجہ پریشان کرنا چاہتے ہیں اور اس کے قوت فیصلہ کو مضمحل اور مکدر کرنا مقصود ہے تو اس کے نمبر کو دس پندرہ نام نہاد ارباب دانش کے گروپ میں شامل کردیجئے اور ان کے فیس بک ٹائم لائن پر دنیا جہان کی واہیات ٹیگ کردیجئے۔آپ یقین جانئے یا تو وہ شخص پاگل ہوجائے گا یا انٹرنیٹ کی وادی کو ہمیشہ ہمیش کے لیے خیرباد کہہ دے گا۔
اللہ بھلا کرے مارک زبرگ اور واٹس ایپ کے بانی کا کہ ان کے آلہ سماجیات نے دنیا کے مسائل حل کئے ہوں یا نہ کئے ہوں۔سماجی تعلقات اور باہمی روابط میں ان کے ذریعہ استحکام آیا ہو یا پہلے سے زیادہ دوری در آئی ہو۔کم سے کم اتنا تو فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ہمارے مصلحان قوم، ارباب دانش اور نقادوں کا ایک بے ہنگم جم غفیر پیدا ہوگیا ہے۔پہلے گلیوں کے نکڑ پر یا چائے کی دکانوں میں یہ نام نہاد ناقد و مصلح ڈیرہ جمائے رہتے تھے اب سب کے سب واٹس ایپ اور فیس بک پر آدھمکے ہیں۔
آپ نے چناوی ریلیوں اور انتخابی جلسوں میں سیاست دانوں کی زبانی بلندبانگ دعوے اور ناقابل یقین وعدے اور حماقت بھری باتیں ضرور سنی ہونگی۔یہ تمام باتیں اور بے کار کی چیزیں اب بآسانی یہاں دستیاب ہیں۔یہاں گالیوں اور بدزبانی کے ایسے ایسے کرشمے اور حشر سامانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اللہ کی پناہ اگر کسی کے سامنے وہ گالیاں اور ہفوات بک دی جائیں تو ان کے کان کے پردے پھٹ جائیں اور ان کی سات پشتوں کی روحیں چیخ پڑے۔
ان گروپ کے نام بھی قابل دید ہوتے ہیں، بزم سخن، مرکز اصلاح امت، ارباب دانش و بینش، گلستان علم و ادب وغیرہ وغیرہ۔ان کے نام جتنے خوبصورت اور دیدہ زیب ہوتے ہیں ان کے مشمولات اور ان کے ارکان اتنے ہی عقل سے پیدل نظر آئیں گے۔ ادبی بحثیں اتنی غیر ادبی لہجے اور زبان میں ہوتی ہے کہ حالی شبلی سے لے کر احتشام، اختر، سرور اور کلیم کی روحیں شرمندہ ہوجاتی ہیں۔یہ تو بھلا ہے کہ ان لوگوں کے عہد میں یہ سماجی آلات نہ تھے ورنہ کلیم الدین احمد کو اردو سماجی گروپیا پر ایک نظر نامی کتاب لکھنی پڑتی اور حالی کو مقدمہ فیس بک اور شبلی کو موازنہ فیس بک اور واٹس ایپ تخلیق کرنے پڑتے۔
ادبی کے علاوہ سماجی، ملکی اور ملی مصلحین و بہی خواہان کی تعداد بھی کافی ہے۔ہر گروپ میں ایسے لایعنی مشورے اور لغو تجویزیں پیش کی جاتی ہیں کہ الاماں والحفیظ۔ فیس بکئے ادیبوں اور واٹس ایپی مصلح کو آپ برساتی مینڈک سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
ان سب کے علاوہ جب واٹس ایپ کے متعدد گروپوں میں بیک وقت میسیج آتے ہیں تو ٹوں ٹوں اور پوں پوں کا ایسا کریہہ سر نکلنا لگتا ہے کہ تان سین اگر زندہ ہوتا تو اپنی تان کو اپنے سر پر پھوڑ کر خودکشی کرلیتا۔
اللہ تمام لوگوں کو فیس بک اور واٹس ایپ گروپوں سے بچائے۔

اتوار، 11 مئی، 2014

ماں 


اے ماں تیری عظمت کو سلام

 
اس رنگ برنگی دنیا کی سب سے حسین اور خوبصورت شئے ماں ہے۔ خدائی مخلوقات میں سب سے مکرم اور محترم مخلوق ماں ۔ ماں کسی خاص دن کی محتاج نہیں۔ ہر دن ، ہر گھنٹہ، ہر منٹ، ہر سکنڈ ماں کے نام۔


بدھ، 9 اپریل، 2014

جمعہ، 19 اپریل، 2013

فتنہ قادنیت کا پرچار: —یہ قلم کسی کا غلام ہے

بشکریہ: محمدجنید رانچوی ایم اے، نائب ڈائریکٹر:مرکزالتراث اسلامی دیوبند

اب قومی اخبارات بھی فتنۂ قادیانیت کے پرچارمیں ملوث!

قومی اخبارات جسے ملک وملت کاترجمان کہاجاتا ہے ،اب ان مقامات میں آزادیٔ ہندکے مخالف اورملک وملت کے غدّار،صہیونی اشارے پرچلنے والی تحریک سے منسلک افراد،نام نہاد''احمدیت''قادیانی گروہ کے افراد،قومی اخبارات کے کارندوں کے ساتھ ملکرغیراسلام کواسلام مذہب سے جوڑنے کی ایک بارپھرناپاک سازش رچی ہے اوراس کے لئے بے سروپاکی خبرکوبنیادبنایاہے۔گذشتہ دنوں13اپریل2013ئکو روزنامہ ہندوستان اکسپریس دہلی میںایک جلی عنوان''35 لاکھ احمدی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے''صفحہ4 پرپڑھنے کوملا،یہ خبرپڑوسی ملک کے مرزائیوں کی شرارت پرمشتمل ہے،تعجب کی بات تو یہ ہے کہ انڈوپاک کے اخبارات میں سے صرف ''روزنامہ ہندوستان اکسپریس دہلی''کوہی یہ خبرکیسے ہاتھ لگی؟ جبکہ جہاں کا واقعہ ہے وہا ں کے کسی اخبارنے اب تک اس سلسلے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا ہے ،بلآخراس خبرکوہندوستان میں چھاپ کرہندوستانی مسلمانوں سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟۔مرزائیوں کی جمعیت وحمیت دکھانا چاہتے ہیں یاہندوستانی امن کوانتشارمیں بدلنا چاہتے ہیں؟۔اولاً:قادیانیوں کواحمدی کہنا ہی خاتم الانبیاء جناب محمدرسول اﷲصل اﷲعلیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکارکرنا ہوتا ہے ،کیونکہ مرزاغلام احمدکادیانی خودکوحضورصلی اﷲ علیہ وسلم کاپنرجنم بنام ''احمد(ۖ) ''منسوب کرکے اپنی اسلام مخالف تحریک کا نام احمدیت رکھا ہے،ثانیاً:اس قادیانی تحریک کا اسلام مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے،یہ اسلام کے مقابل میں مستقل ایک فتنۂ ہے،جس کا کوئی لگام نہیں۔یہ ہمیشہ اپنے دہریت زدہ نظریات کوچھپاکراسلامی نظریات کواپنانظریہ بتلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ اپنے گروگھنٹال کی تعلیمات کو پسندبھی نہیں کرتے اورمنشی کادیانی کونبی،مہدی اورمسیح ماننے سے انکاربھی نہیںکرتے۔ جبکہ مرزاکادنی کے یہ سارے دعوے ڈھکوسلے پرمشتمل ہیں ،حقیقت سے اس کاکوئی واسطہ نہیں ۔اﷲ کے آخری نبی اورسچےّ رسول صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعدقیامت کے قریب بہت سے فراڈی مسلمانوں کے ایمان پرڈاکہ زن ہونگے،انہی میں سے منشی مرزاغلام احمدکادیانی بھی ہے۔اس طرح کے اوربھی بہت سارے واقعات رونماہوچکے ہیں اورہوتے ہی رہتے ہیں چنانچہ تازہ رپورٹ کے مطابق مہدی ہونے کے دعویدارجوگذشتہ چندبرسوں میں نمودارہوئے ہیں ،نمونہ کے طورپرملاحظہ فرمائیں: