بدھ، 15 جون، 2022

تبصرہ: اردو جرنل 12

نام مجلہ: اردو جرنل

صفحات: ۳۵۳، سنہ اشاعت: ۲۰۲۱ء

قیمت: ۳۰۰؍ روپئے 

مدیر: ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی 

ناشر: شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ 

مبصر: شاہد وصی، ، رابطہ: 9006331029

آج کے کتب بیزار معاشرے ،لذت ورق گردانی سےناآشنا سماج اور ان لوگوں کے درمیان جن کی انگلیاں صفحۂ قرطاس کے بجائے موبائل کی اسکرینوں پر زیادہ دوڑتی ہیں ، کسی رسالے کا تسلسل کے ساتھ شائع ہونا اور ساتھ ہی ساتھ ادبی معیار اور مندرجاتی انفرادیت کو بھی برقرار رکھنا کار فرہاد سے کم نہیں۔ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے سالانہ اکیڈمک ریسرچ جرنل ’’اردو جرنل‘‘ کا شمار بھی انہی رسائل میں ہوتا ہے۔ ۲۰۱۰ء سے پابندی کے ساتھ یہ رسالہ شائع ہورہا ہے۔ اس رسالے کی انفرادیت یوں بھی ہے کہ اس کا ہر شمارہ کسی نہ کسی خاص موضوع یا شخصیت پر مشتمل رہا ہے۔ ماضی میں ’’تحقیق وتنقید‘‘، ’’ہم عصر اردو افسانہ‘‘، ’’ہم عصر اردو ناول‘‘ ،’’ہم عصر اردو شاعری‘‘ اور ’’اردو زبان وادب کے فروغ میں پٹنہ یونیورسٹی کی خدمات‘‘ پر نمبر بھی شائع ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ بعض دیگر شمارے میں فیض احمد فیض، سہیل عظیم آبادی، اسرار الحق مجاز، سعادت حسن منٹو وغیرہ پر خصوصے گوشے بھی شامل رہے ہیں۔ مدیر مجلہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کے بقول ۲۰۲۱ء چونکہ اکبر الہ آبادی کی وفات صدی اور ساحر لدھیانوی کی پیدائش صدی ہے، اس لئے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے حالیہ بارہواں شمارہ بھی حسب روایت اردو کے دو بڑے شعرا اکبر الہ آبادی اور ساحر لدھیانوی کے گوشوں پر محیط ہے۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی معاصر فکشن ناقدین میں اعتبار کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے تنقیدی خیالات اور فکری آرافن پارے کی تفہیم میں حد درجہ معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسالے میں بھرتی کے مضامین اور برائے ضخامت والی تحریریں راہ نہیں پاتیں، بلکہ بڑی ژرف نگاہی اور حسن انتخاب کے ساتھ قابل اشاعت مضامین ہی شامل اشاعت ہوتے ہیں۔ 

زیر تبصرہ بارہویں شمارے کا پہلا حصہ اکبر الہ آبادی کے فکر وفن پر مشتمل ہے۔ اس میں بوستان اکبر کے تحت فاضل مدیر نے پروفیسر محمد حسن، پروفیسر قدوس جاوید، پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر ابوبکر عباد، ڈاکٹر آفتاب احمد منیری، مولانا سید شاہ محمد ریان، ڈاکٹر شیخ فاروق باشا، ڈاکٹر محمد شارب وغیرہ مشاہیرادب کی تحریروں کو جگہ دی گئی ہے۔ وہیں گلہائے نو کے ذیلی عنوان کے ساتھ نو واردان بساط ادب کی تحریریں شامل ہیں۔ پروفیسر قدوس جاوید نے اپنے مضمون’’افکار اکبر الہ آبادی کی عصری معنویت‘‘ میں عصری پس منظر میں کلام اکبر کی نئی تفہیم وتعبیر کی ہے۔ اس مضمون میں ماضی پرستی اور مغرب بیزاری کے تعلق سے اکبر اور اقبال کے خیالات کو تقابلی انداز میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکبر الہ آبادی کے تعلق سے عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ ان کے نام کو قہقہوں نے اچھالا اور طنز وظرافت کے ہم دوش ان کی شہرت پروان چڑھی ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ان ہی عناصر کی وجہ سے کلام اکبر اور افکار اکبر حیات و بقا کی ایک ڈیرھ صدی گزار چکا ہے؟ پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے مضمون ’’اکبر الہ آبادی کی شعری روایت اور اکبر کی غزلیہ شاعری کے چند پہلو‘‘ میں اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے آفاقیت وحیات کی نئی کڑی تلاش کی ہے اور اکبر کی غزلیہ اور صوفیانہ شاعری پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ مضمون کے آخر میں وہ لکھتے ہیں: ’’یہ الگ بات ہے کہ ان کی طنزیہ ومزاحیہ نظم نگاری کا جادو اردو شاعری پر کل بھی چڑھا ہوا تھا اور آج بھی۔ اردو دنیا کی اس سرمایۂ غزل کی طرف توجہ نہیں گئی یا کم گئی ورنہ اکبر کی اس رنگ کی شاعری بلاشبہ اردو کی اس صوفیانہ شاعری سے آنکھیں تو ملاتی ہی ہے جہاں درد، میر، غالب اور آتش جیسے جید شعرا نظرآتے ہیں‘‘۔ (ص۳۹) پروفیسر ابوبکر عباد کا مضمون ’’اکبر الہ آبادی کی قرأت نو‘‘ فکری لحاظ سے اکبر کے تصورات کو سمجھنے اور فنی اعتبار سے ان کی شاعری کے پوشیدہ گوشوں کو دریافت کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بشمول مذکورہ مضامین اس حصے میں کل اٹھارہ (۱۸) مضامین شامل ہیں جس میں اکبر الہ آبادی کے فکرو فن کو نئے انداز سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

مجلے کا دوسرا حصہ جوان دلوں کے شاعر اور رومان وانقلاب کے ترجمان ساحر لدھیانوی کے نام ہےجس میں کل سولہ (۱۶) مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ گلشن ساحر کے تحت جہاں پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر اسلم جمشید پوری، ڈاکٹر عبد الحنان سبحانی، ڈاکٹر رشید جہاں انور، ڈاکٹر سورج دیو سنگھ جیسے معتبر وسینئر ناقدین ادب کی تحریریں شامل اشاعت ہیں وہیں چمن تازہ کے عنوان کے ذیل میں ڈاکٹر شیخ عمران، ڈاکٹر عبد الباسط حمیدی، ڈاکٹر محمد سہیل انور اور ڈاکٹر نور نبی انصاری جیسے نئے لکھاریوں کے مضامین کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ساحر لدھیانوی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے بھی رہا ہےاور ترقی پسند شاعری کے بارے میں عمومی تصور یہ رہا ہے کہ یہ صرف نعرہ بازی کی شاعری ہے، اس میں خطابت اور مقصدیت کا غلبہ ہوتا ہے۔ ساحر کے تعلق سے بھی یہ غلط فہمی عام ہے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے مضمون ’’امید ونشاط کا شاعر: ساحر لدھیانوی‘‘ میں اسی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہیں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے ساحر کی دو نظموں ’’اے شریف انسانو!‘‘ اور ’’مگر ظلم کے خلاف‘‘ کا جائزہ لیا ہے اور عصری پس منظر میں اس کی تفہیم نو کی ہے۔ ڈاکٹر شہناز بانو نے اپنے طویل مضمون ’’ساحر: فلمی نغموں کا سوداگر‘‘ میں ساحر کے اکثر بیشتر فلمی نغموں کی روداد قلمبند کردی ہے۔ مجموعی اعتبار سے مجلہ کا یہ حصہ بھی ساحر کے فکر وفن اور ان کی شاعری کے مختلف جہات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ مدیر کا حسن انتخاب ہی ہے کہ اکبر وساحر کا یہ دونوں گوشہ ظاہری اعتبار سے گوشہ ضرور نظر آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے کسی معتبر نمبر سے کم نہیں ہے۔ 

مجلے کے تیسرے حصے میں گلستان نقد ونظر کے تحت مختلف موضوعات پر تحقیقی وتنقیدی مضامین کو جگہ دی گئی ہے۔ اس حصہ میں کل تیرہ (۱۳) مضامین شامل ہیں۔ پروفیسر شہاب الدین ثاقب کا مضمون ’’بہار میں اردو تحقیق: آغاز تا امروز‘‘ نہایت وقیع اور محققانہ مضمون ہے۔ اس مضمون میں بہار میں اردو تحقیق کی مکمل روایت کا قدرے اجمالا قدرے تفصیلا تذکرہ موجود ہے۔ وہیں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا مضمون ’’نظیر اکبر آبادی اور ڈاکٹر فیلن‘‘ بھی ایک تحقیقی مضمون ہے۔ جس میں مضمون نگار نے ایس ڈبلیو فیلن کی تالیف کردہ تین لغات کا جائزہ لیا جس کے اندر ڈاکٹر فیلن نے تقریباً دو ہزار الفاظ، محاورات، ضرب الامثال، مرکبات اور اصطلاحات پیشہ وراں کو نظیر کی سند کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ وہیں محمد عارف حسین کا مضمون ’’دبیر کا غیر منقوط کلام‘‘ اپنی نوعیت کا نیا اور منفرد مضمون ہے۔ 

یہ رسالہ اپنے اندر افادی پہلو کو سمیٹے ہوا ہے۔ مجلہ کے کل صفحات ۳۵۲؍ ہیں۔ دیدہ زیب سرورق ، عمدہ طباعت کے ساتھ اس کی قیمت ۳۰۰؍ روپئے رکھی گئی ہے۔ 

(یہ تبصرہ ’’اردو دنیا‘‘ جون 2022 کے شمارے میں شائع ہوا ہے) 

پیر، 13 جولائی، 2020

آیا صوفیا: کھل گئے تیرے در ایک مدت کے بعد

اپنی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط ۲۲
محمد احتشام الحق قاسمی، رامپور سمستی پور 
12جولائی 2020

آیا صوفیا سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ فتح ہونے سے پہلے مشرقی عیسائیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ عیسائی دنیا مذہبی اعتبار سے دو بڑے فرقے میں منقسم تھی۔ ایک فرقہ کیتھولک چرچ سے وابستہ ہوکر اپنے کو کیتھولک عیسائی کہتا تھا اور دوسرا آرتھوڈوکس عیسائی کہلاتا تھا ۔ مغربی دنیا کے عیسائیوں کا مرکز روم کا شہر ویٹیکن سیٹی تھا، انکا مذہبی پیشوا پوپ کہلاتاہے اور مشرقی دنیا کے عیسائیوں کا مرکز قسطنطنیہ تھا اور اس کا مذہبی پیشوا بطریق  patriarch کہلاتا تھا ۔ ان دونوں فرقوں کے درمیان سیاسی اور مذہبی کشمکش برابر جاری رہتی تھی ۔
آیا صوفیا یہ ارتھوڈوکس عیسائیوں کا عالمی مرکز تھا اور ساتھ میں عسکری مرکز بھی ، چونکہ اس وقت بادشاہوں پر کلیسا کی حکومت تھی اور کلیسا کی سربراہی میں جنگ لڑی جاتی تھی ۔ آیا صوفیا کی اہمیت اس لیے بھی عیسائیوں کے نزدیک زیادہ تھی کہ وہ روم کے کیتھولک چرچ سے زیادہ قدیم تھا ۔ 

آیا صوفیا کی تعمیر 
آیا صوفیا کی بنیاد روم کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے ڈالی تھی۔ اسی بادشاہ کے نام پر اس شہر کا پرانا نام بازنطینہ سے بدل کر قسطنطنیہ رکھا گیا۔  قسطنطین نے پہلی مرتبہ 360عیسوی میں ایک لکڑی کا کلیسا تعمیر کیا تھا ، چھٹی صدی میں جلنے کے بعد قیصر جسٹینین اول نے 532عیسوی میں اسے پختہ تعمیر کروایا ۔ دس ہزار مزدوروں نے پانچ سال دس ماہ کے عرصے میں آیا صوفیا کی تعمیر مکمل کی، جب تعمیر مکمل ہونے کے بعد جسٹینین اس کلیسا میں داخل ہوا ، تو اس نے انتہائی متکبرانہ اور گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اے سلمان میں تم سے سبقت کرگیا ۔ نعوذ باللہ من ذالک 
مراد اس کا یہ تھا  میں نے آپ سے بڑی عبادت گاہ بنا ڈالی میری تعمیر کے آگے آپ کے بیت المقدس کی تعمیر ہیچ ہے۔ 
آیا صوفیا پر آئے مختلف ادوار 
آیا صوفیا پر مختلف ادوار آئے  جن کو ہم سات مرحلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں 
1۔  535سے 1054تک یہ بازنطینی مسیحی کیتھڈرل کے طور پر مشہور رہا ۔ 
2 ۔ 1054سے 1204تک یہ یونانی راسخ الاعتقاد کلیسا کیتھڈرل کے طور سے مشہور رہا ۔ 
3۔  1204سے 1261تک اسے رومی کیتھولک کیتھڈرل کے طور پر جانا گیا ۔ 
4۔  1261سے 1453تک یونانی راسخ الاعتقاد کلیسا کے طور پر اسکی شہرت رہی ۔ 
5۔  1453سے 1935تک عثمانی مسجد یا صوفیا کبیر جامع شریفی کے نام سے اسکی شہرت رہی ۔ 
6۔  1935سے 10جولائی 2020تک میوزیم کے روپ میں رہی۔  
7۔  اب ترکی کی سپریم کورٹ نے اسے اسکی اصل حیثیت میں لوٹانے کا حکم دیدیا ۔ 
تقریبا ً پچاسی سال بعد آیا صوفیا سجدوں سے آباد ہورہی ہے ، خداتعالیٰ قیامت تک اسے آباد رکھے ۔ 

کیا سلطان محمد فاتح نے اسے خرید کر وقف کیا تھا ؟ 

اتوار، 28 جون، 2020

"ارطغرل غازی"


کالم نگار:
جاوید چوہدری

دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں جینئس‘ ایوریج اور بلو ایوریج‘ ہماری دنیا میں بلو ایوریج (معمولی لوگوں) اور ایوریج (سطحی لوگوں) کی کوئی کہانی نہیں ہوتی‘ یہ لوگ آتے ہیں‘ زندگی گزارتے ہیں اور اکثر اوقات اپنے جیسے بچے پیدا کر کے چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لہٰذا ان کی زندگی پر کوئی کہانی‘ کوئی کالم اور کوئی کتاب لکھی جاتی ہے اور نہ کوئی ڈرامہ یا فلم بنائی جاتی ہے۔
یہ دنیا میں آتے ہیں تو کسی کو پتا نہیں چلتا‘ یہ چلے جاتے ہیں تو بھی کسی کو علم نہیں ہوتاجب کہ جینئس لوگوں کی کہانیاں بھی لکھی جاتی ہیں اور ان پر فلمیں بھی بنتی ہیں اور ان کے ڈرامے بھی بنائے جاتے ہیں‘ میں اپنے سیشنز میں
اکثر عرض کرتا ہوں آپ اگر تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا کام کر جائیں جس پر آنے والے لوگ کتابیں لکھیں اور ڈرامے بنائیں اور آپ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر جینئس لوگوں کے بارے میں کتابیں لکھیں آپ بھی ان کے ساتھ زندہ رہ جائیں گے ورنہ یہ جیون سفر رائیگاں کے سوا کچھ نہیں‘ یہ ایک بات تھی‘ آپ اب دوسری بات بھی ملاحظہ کیجیے‘ دنیا کے تما ایکسٹرا آرڈنری لوگ ایک جیسی زندگی گزارتے ہیں‘ یہ آج کے دور میں ہوں یا ماضی میں‘ مصیبتیں‘ مشکلیں‘ دھوکے اور بے وفائیاں ان کا مقدر ہوتی ہیں‘ یہ بے چارے پوری زندگی گرم توے پر تیل کی بوند کی طرح اچھلتے کودتے اور سی سی کرتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن اچانک تحلیل ہو جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے توے پر اپنا نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔
ارطغرل ڈرامہ سیریز کا ہیرو بھی ایک ایسا ہی ایکسٹرا آرڈنری‘ ایک جینئس انسان تھا‘ یہ چھوٹے سے خانہ بدوش قبیلے میں پیدا ہوا لیکن قدرت نے اسے ایک لازوال سپہ سالار‘ ایک بڑی ریاست کا معمار اور ایک عالمی سیاست دان بنایا تھا‘ وہ قبیلے سے اٹھ کر دنیا کو دیکھ رہا تھا اور اس کا خیال تھا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک بڑی اسلامی ریاست بنا سکتا ہے۔
وہ اپنے لوگوں کا مقدر بدل سکتا ہے لیکن پھر اس کے ساتھ وہی ہوا جو دنیا میں سپرجینئس‘ جینئس یا ایکسٹرا آرڈنری لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں ارطغرل ڈرامہ سیریز بنیادی طور پر غیر معمولی لوگوں کی داستان حیات ہے اور یہ داستان ثابت کرتی ہے اگر عقاب پنجرے میں پیدا ہو جائے یا بلی کے بچوں کے درمیان شیر کا بچہ آ جائے تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

اسے منزل تک پہنچنے کے لیے کس کس مرحلے سے گزرنا اور آگ کے کس کس دریا کو تیر کر پار کرنا پڑتا ہے چناں چہ دریلیش ارطغرل صرف ڈرامہ سیریز نہیں یہ کام یابی کی ایک بے مثال داستان‘ ایک شان دار سکسیس سٹوری ہے‘ یہ غیر معمولی لوگوں کا نوحہ بھی ہے لہٰذا آپ اگر زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر میں آپ کو مشورہ دوں گا آپ دریلیش ارطغرل ضرور دیکھیں‘ نوٹس لیں اور ارطغرل کی طرح مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا سیکھیں۔
آپ بالآخر کام یاب ہو جائیں گے۔ارطغرل کی ڈرامہ سیریز میں اول روز سے خواری شروع ہوتی ہے‘ اس کے اپنے اور پرائے سب اس کو دکھ دیتے ہیں‘ یہ گھر سے بھی مار کھاتا ہے اور باہر سے بھی‘ یہ بار بار قبیلے سے بے دخل کر دیا جاتا ہے‘ یہ درجنوں بار قید ہوتا ہے‘ اس کا والد‘ اس کی والدہ اور بھائی بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

منگل، 23 جون، 2020

اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

واٹس ایپ کے ایک گروپ میں ہونے والے بحث و مباحثہ کے دوران
اختلاف ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ نیک نیتی، صداقت اور سنجیدگی چاہتا ہے۔ اختلاف رائے ہی سے سماج کی رنگینیاں ہیں، یک رنگی طبائع انسانی کے خلاف ہے۔ اگر سماج وطبائع اور جماعت میں رنگینیاں اور بوقلمونی نہ ہوں تو وہ سماج تعطل وجمود کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوؔق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
یہی وجہ ہے کہ فطرت نے از خود انسانی سرشت میں اختلاف کو رکھ دیا ہےاور دین فطرت اسلام نے اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشاورت کا عظیم ونایاب فارمولہ پیش کیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اختلاف رائے اور نقد وجرح کے بہت سارے شرائط بھی ہیں اور تقاضے بھی۔ تنقید حقیقت پسندی اور غیر جانبداری کا تقاضا کرتی ہے۔ تنقید اسی وقت تک محمود ہے جب تک اس میں ان شرائط کو ملحوظ نہ رکھا گیا ہو۔ اگر تنقید تنقیص وتعییب کا پیراہن اختیار کرلے تو یہ ایک غیر محمود عمل ہے اور ناپختہ وغیرسنجیدہ ذہن کی پیداوار۔ یہی حدود وقیوم تحمید وتعریف کے ساتھ بھی لگائے گئے ہیں۔
بارہا گروپ میں بعض احباب نے ان امور کی نشاندہی کرائی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پر رہا کہ گروپ کے چند رفقا وقفے وقفے سے ان اصول سے صرف نظر کرتے ہوئے تنقیص کو تنقید کا لبادہ اوڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ امید ہے احباب آئندہ ان کلیات کا خیال رکھیں گے۔

مشھود وصی ابن شاہد وصی ابن وصی احمد ابن اسرائیل ابن حنیف

تمام تعریفیں اسی داتائے یکتا اور دانائے اسرار و رموز کے لئے جس کی مشیت کے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، جو داتاوں میں داتا اور داناوں میں سب سے دانا ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں، ایک بحر ناپیدا کنار ہے، جو نوازتا ہے اور بے حد و حساب نوازتا ہے بلکہ چھپر پھاڑ کے نوازتا ہے،
اسی کی مشیت ہوئی اور میرے گھر آنگن اور خانوادئے وصی میں 4 اگست 2019 مطابق 2ذی الحجہ 1440ھ کو ایک ننھے سے وجود نے آنکھیں کھولی-

پڑھیئے ایک مزاحیہ وطنزیہ تحریر

اختلاف کیا ہے اور اس کے لئے کون سے اصول ضروری ہیں: ایک چھوٹی تحریر

سو اے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات، اے ہواوں میں محو پرواز چرند و پرند سنو اور کان کھول کے سنو اور سن کر ساری کی ساری کائنات میں ، تمام سیاروں و ستاروں کے روبرو، ہر طرح کی کہکشاوں کے اندر اور اس سے بھی پرے ، دور بہت دور ، ہر اس جگہ جہاں کوئی نفس و ہستی موجود ہے یہ خبر عام کردو کہ آج سے اس ننھے وجود کو جو بطن زوجہ شاہد سے بہ مشیت ایزدی ہماری دنیا میں آیا ہے مشہود وصی کے نام سے پکارا جائے
اور
اے وہ کہ جو یہ اعلان پڑھ رہا ہے رب کائنات کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور بھیگی آنکھوں و تڑپتے دل سے دعا گو ہوں کہ مشھود وصی کا اقبال بلند ہو، خدا دنیا جہان کی تمام نیک نامیاں اس کی جھولی میں ڈال دے، اس کے حصے میں صداقت، دیانت، لیاقت، حلم و بردباری اور اطاعت و وفاشعاری آئے، اس کا ہر قدم اعلا کلمہ اللہ کے لئے اٹھے، اس کی پوری تگ و دو دین کی سربلندی میں صرف ہو اور اس کی مکمل زندگی کا مقصد دین الہی کی سرفرازی ہو

کروونا سے احتیاط اور بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر


پیاری اریبہ 
تاریخ پیدائش: 15 جون 2016
سدا ہنستی مسکراتی رہو 
تمہارے سامنے عید کی کیا حیثیت، تمہاری ایک کلکاری پر ہزاروں عید قربان، تم ہو تو بہار کی یہ رعنائیاں کیا، تمہارے وجود سے ہی زندگی کی یہ رنگینیاں ہیں، اس حیات مستعار میں تم ہی وہ خدائی عطیہ ہو جس کا کوئی بدل نہیں، تمہیں ابھی اس کی خبر نہیں کہ تمہاری ایک مسکراہٹ سے ہمارا وجود لطف و کیف کی نہ جانے کیسی کیسی بلندیاں طے کر لیتا ہے اور تمہارے ننھے ننھے ہاتھوں کے لمس سے کیسی بہشتی مسرت ملتی ہے، خدا تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے، تمہیں دنیا جہاں اور آخرت کی وہ وہ نعمتیں ملے جس کا تمہارا باپ تصور بھی نہیں کرسکتا
تمہارا خوش نصیب باپ